حیات شمس

by Other Authors

Page 286 of 748

حیات شمس — Page 286

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 270 اردو بولنے کی وجہ سے انہیں اور بھی دلچسپی پیدا ہوگئی۔وہ پادری یہ کہ رہا تھا کہ جب یسوع مسیح دوبارہ آئے گا تو اس وقت تمام دنیا کے لوگ اسے مان لیں گے۔میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ جب یسوع مسیح پہلی دفعہ آیا تو اسرائیلیوں نے اسے قبول نہ کیا تو اب عقلاً یہ کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس زمانہ دہریت والحاد میں آکر تمام دنیا کو اپنا معتقد بنالیں گے۔اس نے جواب دیا کہ یسوع مسیح سب کچھ جانتا تھا اور اس کی سب باتیں پوری ہوں گی۔میں نے کہا اس نے خود کنواریوں کی مثال دے کر یہ بتا دیا ہے کہ اس کے ماننے والے بھی جو اس کا انتظار کر رہے ہیں اسے سارے نہیں مانیں گے چہ جائیکہ غیر مذاہب والے اور یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ہر ایک چیز کا اسے علم تھا کیونکہ اس نے یہ خبر دی تھی کہ جو یہاں کھڑے ہیں ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ جب تک ابن آدم کو اس کی بادشاہت میں آتے ہوئے نہ دیکھ لیں موت کا مزا نہ چکھیں گے (متی 28:16) حالانکہ وہ سب مرگئے اور وہ اپنی بادشاہت میں نہ آیا۔کہنے لگے کہ اسکے بعد اس نے جو موسیٰ کو دیکھا۔میں نے کہا کہ اس دیکھنے کو بادشاہت میں آنے سے کیا نسبت کیا یہی اس کی بادشاہت تھی کہ اس کے بعد یہود نے اسے صلیب پر لٹکا دیا۔پھر میں نے کہا یسوع مسیح نے کہا تھا کہ وہ تین دن اور تین رات قبر میں رہے گا مگر انجیل کی رو سے صرف ایک دن اور ایک رات قبر میں رہا۔اس نے جواب دیا کہ اس میں تین رات مراد ہیں میں نے اسی سے انجیل لے کر بتایا کہ اس میں تین دن اور تین رات لکھا ہے پھر کہنے لگا کہ یہود کہتے ہیں کہ وہ جمعرات کو صلیب دیا گیا تھا۔میں نے کہا تب انجیل کا بیان غلط ہے کہ وہ جمعہ کو صلیب دیا گیا۔اس نے کہا کہ انجیل میں یہ نہیں لکھا کہ جمعہ کے روز صلیب دی گئی۔میں نے کہا کہ یوحنا میں یہ صاف بیان لکھا ہے۔چنانچہ میں نے اس کی تردید میں دو حوالے دیئے انجیل یوحنا سے نکال کر دکھائے غرض کہ اس سے کوئی جواب نہ بن پایا اور حاضرین نے اس کو بہت شرمندہ کیا اور کہا کہ جاؤ اور انجیل پڑھو تمہیں انجیل نہیں آتی اور یہ تم سے انجیل کو بہت زیادہ جانتے ہیں اور ان سے سوالات نہایت معقول اور ناقابل تردید کیے ہیں۔اس مکالمہ کا حاضرین پر اچھا اثر ہوا۔ہائیڈ پارک میں لیکچروں کا سلسلہ الفضل قادیان 20 جون 1936ء) (حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب ) ہائیڈ پارک میں لیکچروں کا سلسلہ شروع ہے۔ایام زیر رپورٹ میں لیکچر برادرم عبدالعزیز پسر