حیات شمس

by Other Authors

Page 274 of 748

حیات شمس — Page 274

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 66 سید زین العابدین، مولانا جلال الدین شمس، گیانی واحد حسین ، شیخ رحمت اللہ شاکر وغیرہ نے قادیان سے جموں پہنچ کر تقاریر کیں اور احرار کا بھانڈہ چوراہے پر توڑ دیا۔“ مولانا اسد اللہ قریشی مرحوم کو اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے علمی میدان میں جو کچھ اثاثہ وہ چھوڑ گئے ہیں وہ نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔اس جگہ ایک تاریخی حقیقت قابل ذکر ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر کا آغاز 1931ء میں ہوا تھا۔اگر اس سے قبل برادران وطن مسلمانوں کو ملیا میٹ کرنے کے منصوبے نہ بناتے تو مسلمانان ریاست شایداب تک بھی خفتہ ہی رہتے مگر جو باتیں مقدر ہوتی ہیں وہ ہو کر رہتی ہیں۔1923ء میں ہندؤوں نے خود ہی ایک مذہبی کارزار بنایا اور ریاست میں شدھی تحریک کی ایک یورش بر پا کی اور ہندوستان کے ہندؤوں کو ریاست میں شدھی کی تحریک چلانے اور مسلمانوں کو ہندو بنانے کی کھلی دعوت دی۔ان کی اس تحریک نے بہت زور پکڑا چنانچہ ہند و سبھا نے اپنے اُپدیشک ریاست میں بھجوائے جنہوں نے جگہ جگہ اسلام کے خلاف زہر افشانی کی اور مسلمانوں کو دعوت مقابلہ دی گئی۔عجیب اتفاق ہے کہ تحریک آزادی کشمیر میں جس طرح سیاسی میدان میں جماعت احمدیہ نے مسلمانان کشمیر کی دستگیری کی اسی طرح اس زمانہ میں ہندوستان کے ہندوؤں نے کشمیر میں ڈوگرہ راج کا سہارا لے کر بھر پور کوشش کی کہ ساری ریاست کے مسلمانوں کو شدھی کیا جائے۔1923ء کی کشمیر میں شروع کی گئی اس تحریک کا ہندوسبھا نے 1925ء کے منعقدہ ایک اجلاس میں خاص طور پر ریاست جموں و کشمیر میں کامیاب بنانے کا فیصلہ کیا۔19,18,17 اکتوبر کو اکھنور صوبہ جموں میں آریہ سماج کا سہ روزہ جلسہ ہوا۔اشتعال انگیز تقاریر میں مسلمانوں کو دعوت مقابلہ و مناظرہ بھی دی گئی اسی طرح جموں شہر میں آریہ سماج نے ڈوگرہ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کا قافیہ تنگ کر دیا۔جموں کے مسلمانوں کے سرکردہ احباب نے بالعموم قادیان کی طرف رجوع کیا اور قادیان سے جو جو بزرگ آگے پیچھے جموں آ کر اسلام کا دفاع کرتے رہے ان میں ہمارے علماء کا برین ہی جموں آتے رہے ہیں۔ایک ایسے ہی موقع پر علماء قادیان کا وفد ایک ساتھ جموں آیا اور انہوں نے اسلام کا دفاع کیا۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے مولانا جلال الدین شمس، مولانا ابوالعطاء جالندھری اور مرحوم ملک عبدالرحمان صاحب خادم کو جموں آ کر خدمت سلسلہ کا موقع ملتا ر ہا۔آخر الذکر دونوں حضرات 258