حیات شمس — Page 275
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس کو وادی کشمیر کی سیر و سیاحت کا موقع بھی ملا اور مولانا ابوالعطاء صاحب کورڈ بہائیت کے خلاف بھی خاص توفیق ملی۔الحمد للہ۔مگر مولانا جلال الدین شمس ان واقف زندگی حضرات میں سے ایک تھے جن کو کئی کئی سال بیرون ممالک میں تبلیغ احمدیت کا فریضہ سرانجام دینے کے دوران اپنے بچوں کا منہ دیکھنا بھی نصیب نہ ہوتا تھا۔چنانچہ ایسے ہی ایک موقع پر جب بچوں کو معلوم ہوا کہ ان کے ابا عید کے موقع پر بھی گھر میں موجود نہ ہوں گے کسی بچے نے اپنی مادر مہربان سے دریافت کیا، امی کیا بڑی عید پر بھی ابا گھر نہیں آئیں گے۔والدہ نے اثبات میں جواب دیا کہ بیٹا وہ ہم سے بہت دور انگلستان میں دین کی خدمت کیلئے گئے ہوئے ہیں۔معصوم بیٹی نے اپنی والدہ سے شکوہ کیا کہ اگر وہ عید پر بھی نہیں آئیں گے تو آپ نے ان کے ساتھ شادی ہی کیوں کی تھی! 259 یہ معصومانہ سوال و جواب اپنے اندر بہت بڑے معنی رکھتا ہے، مولانا کی انہی قربانیوں کے نتیجہ میں شمس صاحب مرحوم کی یاد احمدی دنیا میں آج بھی قائم ہے۔مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ ان کے فرزند فلاح الدین صاحب شمس ( مقیم امریکہ ) اور فرزند مکرم منیر الدین شمس بھی جو بفضلہ تعالی خلافت احمدیہ کے ایک مخلص اور وفا دار خادم ہیں اور اپنے نامور والد گرامی کی یاد کو جلا دینے کیلئے کتاب تدوین کرارہے ہیں ان کی فرمائش پر میں نے یہ مضمون لکھا ہے۔گر قبول اللہ زہے عزّ و عز و شرف تاثرات محررہ جولائی 2007ء بنام مولانا منیر الدین شمس صاحب)