حیات شمس — Page xxxi
XXX کام آگے بڑھتا ر ہے۔دوسرے یہ کہ جہاں بھی جاؤ قرآن شریف کا درس جاری کرو۔والد صاحب نے اس نصیحت کے تحت دمشق میں منیر الحصنی صاحب کو اپنا جان نشین تیار کیا اور جب آپ کو دمشق سے فلسطین مجبور آ جانا پڑا تو انہوں نے جماعت کو سنبھال لیا اور ایک لمبا عرصہ اپنی وفات تک اس ذمہ داری کو نبھایا۔دوسری نصیحت کے مطابق جب کہا بیر فلسطین میں جماعت تیار ہوئی تو آپ نے با قاعدگی سے درس قرآن جاری کیا جو جماعت کی تعلیم و تربیت کیلئے بہت سودمند ثابت ہوا۔آج تک دمشق کے احباب جماعت آپ کیلئے بہت ہی محبت اور انس کے جذبات رکھتے ہیں۔اگر چہ اس بات کو ستر سال سے زائد عرصہ گذر چکا ہے لیکن وہ ابھی تک انہیں بزرگ اور اپنے گھر کے ایک فرد کے طور پر جانتے ہیں۔یہ میرا بیٹا ہے لیکن میں نے اس کو دس سال سے نہیں دیکھا خاکسار کو اللہ تعالیٰ نے تو فیق دی کہ دمشق جا کر وہ جگہ دیکھوں جہاں آپ رہتے تھے اور جہاں آپ پر حملہ کیا گیا اور وہ ہسپتال بھی دیکھا جہاں آپ کو لے جایا گیا تھا۔احباب جماعت جو میرے ساتھ تھے ان میں سے صرف ایک دوست تھے جو والد صاحب کو 1946 ء میں ملے تھے جبکہ آپ لندن سے قادیان واپس جاتے ہوئے دمشق ٹھہرے ہوئے تھے۔لیکن صرف وہی نہیں بلکہ نوجوان احمدی بھی ان کا ایسے محبت کے ساتھ ذکر کرتے تھے کہ ایک عجیب کیفیت طاری ہوتی تھی۔وہ احمدی دوست ابوالفراج صاحب مجھے بتانے لگے کہ جب آپ کے والد صاحب یہاں آئے تو میں ان سے ملتا تھا اور ان کے کمرہ میں جاتا تھا۔ایک مرتبہ انہوں نے اپنی جیب میں سے ایک لڑکے کی تصویر نکالی اور مجھے کہنے لگے کہ تم جانتے ہو یہ کس کی تصویر ہے؟ اور پھر مجھے بتایا کہ یہ میرا بیٹا ہے لیکن میں نے اس کو دس سال سے نہیں دیکھا ہوا، اب میں قادیان جاؤں گا تو اسے دیکھوں گا۔اس سلسلہ میں حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری رضی اللہ عنہ کی ایک بات کا ذکر کردوں۔حضرت حافظ صاحب نے مجھے بتایا کہ میرے دادا اُن کے پاس میرے بڑے بھائی کو لے کر آتے تھے اور کہتے تھے کہ حافظ صاحب اس بچے کیلئے دعا کریں۔یہ اپنے باپ کیلئے روتا ہے۔کہتا ہے ” باقی سب کے اتبا ہیں تو میرے کیوں نہیں ہیں ؟ اور میرا دل ہل جاتا ہے مجھ سے دیکھا نہیں جاتا اور یہ کہتے ہوئے ان کے آنسو نکل آتے تھے۔حافظ صاحب فرماتے کہ میں بات کا رخ دوسری طرف لے جاتا