حیات شمس — Page xxx
xxix ہجرت کر کے پاکستان آچکے تھے۔سیدنا حضرت مصلح موعودؓد بھی لا ہور تشریف لا چکے تھے اور وہیں سے ہدایات جاری فرما رہے تھے۔ہمارے والد صاحب آخری قافلے کے ساتھ اکتوبر 1947ء میں پاکستان کی طرف آئے۔قادیان سے باہر نکل کر آپ نے قافلے کو تھوڑی دیر کیلئے ٹھہرایا اور قادیان کی طرف رُخ کر کے وہی الفاظ دہرائے جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ چھوڑتے وقت دہرائے تھے کہ اے بستی میرا دل تجھے چھوڑنے کو نہیں کرتا لیکن تیرے لوگوں نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں اے قادیان تجھے چھوڑ دوں۔یہ بھی ایک غیر معمولی بات تھی جس کا ذکر کرنا مناسب سمجھا ہے۔اس ضمن میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ربوہ کا نام بھی حضرت والد صاحب نے تجویز فرمایا تھا جسے حضور نے شرف قبولیت عطا فر مایا۔عبادت محترم چوہدری انور احمد صاحب کاہلوں جب پڑھائی کیلئے لندن گئے تو ہمارے والد صاحب نے انہیں تجویز کیا کہ وہ کسی فلیٹ میں رہنے کی بجائے مسجد کی بلڈنگ میں رہیں اس سے ان کا خرچ بھی کم ہوگا اور مسجد کے ماحول میں رہنا تربیتی لحاظ سے بھی بہتر ہوگا۔جب مکرم کاہلوں صاحب نے حامی بھر لی تو آپ نے انہیں کہا کہ وہاں ایک بڑا کمرہ ہے اور ایک چھوٹا۔بڑے کمرہ میں آپ رہیں گے اور میں چھوٹے کمرہ میں۔اس پر کاہلوں صاحب نے اصرار کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ چھوٹے کمرہ میں ہوں اور میں بڑے میں رہوں۔جب کاہلوں صاحب نے بہت اصرار کیا تو حضرت والد صاحب نے مجبوراً اس کی وجہ بتائی۔کہنے لگے کہ چھوٹے کمرہ میں حضرت مولوی شیر علی صاحب رہا کرتے تھے جب وہ قرآن شریف کے انگریزی ترجمہ کے سلسلہ میں لندن تشریف لائے ہوئے تھے۔آپ کا طریق تھا کہ جب بھی ترجمہ کرنے کیلئے بیٹھتے تھے تو پہلے دو نفل نماز ادا کرتے تھے۔انہوں نے اس کمرہ میں اتنی نمازیں پڑھی ہیں کہ مجھے وہ کمرہ بہت پسند ہے اور میں وہیں رہنا پسند کرتا ہوں۔اس پر مکرم کا ہلوں صاحب راضی ہو گئے۔والد صاحب اپنے استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب کو بہت محبت اور عزت سے یاد کرتے تھے۔ان کی دو نصیحتوں کو ہمیشہ یادر کھتے تھے۔ایک یہ تھی کہ جہاں کہیں بھی مبلغ بن کر جاؤ وہاں ایک شخص کو اپنے خاص طریق سے رنگ دوتا کہ تمہیں اگر کہیں اور جانا پڑے تو وہ تمہاری جگہ لے سکے اور جماعت کا