حیات شمس — Page xxxii
xxxi اور انہیں کہتا کہ اس کے والد تو نیک کام کیلئے گئے ہوئے ہیں اور پھران کو یاد دلاتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ آپ کو ان سے نسبت صدیقی ہے۔چنانچہ پھر وہ حضرت مسیح موعود کی شفقت کو یاد کر کے اور بھی روتے لیکن یہ محبت کے آنسو ہوتے تھے۔خادم خلافت والد صاحب کو خلافت احمدیہ سے حد درجہ محبت تھی۔خلیفہ وقت سے متعلق کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی برداشت نہیں کرتے تھے اور فورا درستی کر دیتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ جب ہماری دادی جو صحابی تھیں اور تین سو تیرہ صحابیوں میں شامل تھیں وہ تقریباً 96 سال کی عمر میں وفات پا گئیں تو والد صاحب نے مجھے کہا کہ کا غذ اور قلم لا دو حضور کو خط لکھنا ہے۔مجھے صرف یہ خواہش تھی کہ دیکھوں کہ والد صاحب حضور کو کیسے خط لکھتے ہیں۔چنانچہ آپ نے حضور کو درخواست لکھی کہ ان کی والدہ کو قطعہ خاص میں دفن کرنے کی اجازت دی جائے جو حضور نے منظور فرمائی۔اس خط میں آپ نے حضور کوان الفاظ میں مخاطب کیا تھا: " آقائی و مولائی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدک اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز چنانچہ اسی وقت سے اب تک جب خاکسار بھی کوئی خط خلیفہ وقت کی خدمت میں لکھتا ہے تو انہی الفاظ سے مخاطب کر کے لکھتا ہے۔خلیفہ وقت کی تعظیم ہر وقت مد نظر ہوتی تھی۔ایک دفعہ جلسہ کا پروگرام تیار ہو رہا تھا اور حضور اید اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھجوایا جانا تھا۔میں کسی کام سے آپ کے دفتر میں بیٹھا تھا چنانچہ آپ نے پروگرام پڑھا تو اس میں لکھا تھا کہ حضور منظوری دیں کہ ان اصحاب میں سے کون تلاوت قرآن کریم فرمائے۔والد صاحب نے کہا کہ جب حضور سے درخواست ہورہی ہو تو کوئی اور نہیں فرما سکتا۔لکھو کہ کون تلاوت کرے۔وصیت شمس آپ کی وفات سے تقریباً تین ماہ قبل جب میں امریکہ آنے کی تیاری کر رہا تھا تو میں نے والد صاحب سے کہا کہ آپ ٹیپ ریکارڈر میں کوئی پیغام ریکارڈ کر دیں۔آپ نے کہا کہ اس کو سیٹ کر دو اور مجھے بتا دو کہ کہاں سے بند ہوتا ہے اور کمرہ سے باہر چلے جاؤ اور دروازہ بند کر دو۔جب میں ریکارڈ کرلوں گا تو تمہیں واپس بلالوں گا۔