حیات شمس — Page 251
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 235 ہو ا تو سوائے خاموشی کے ان سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔ان مناظرات کی مصر میں بڑی شہرت ہوئی اور اس سے مصر میں جماعت احمدیہ کا با قاعدہ قیام عمل میں آیا۔سب سے پہلا مصری جسے قبول احمدیت کا شرف حاصل ہوا، وہ اخی فی اللہ عبد الحمید خورشید ہیں۔ان کے بعد احمد علمی صاحب احمدی ہوئے۔یہ دونوں صاحبان زیارت قادیان دارالامان سے مشرف اور سید نا حضرت امیر المومنین اصلح الموعود اور صحابہ مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات سے بہرہ اندوز ہو چکے ہیں اور سیدنا مسیح موعود علیہ السلام کے روضئہ مبارک کو بچشم خود دیکھ چکے ہیں۔مولانا ابوالعطاء صاحب مبلغ اسلام کی قادیان سے بلاد عربیہ کے لئے تقرری کے بعد مولانا شمس صاحب انہیں چارج دے کر قادیان تشریف لے آئے۔۔مذکورہ بالا مبلغین [ مولانا ابوالعطاء صاحب، مولانا محمد سلیم صاحب اور مولانامحمد شریف صاحب] کے ورود سے پہلے سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مکرم جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو دمشق بھیجا تھا۔آپ نے وہاں کے قیام کے دوران میں ایک کتاب ” حياة المسيح و وفاتہ“ کے نام سے تحریر فرمائی۔اس وقت آپ کے ساتھ شمس صاحب بھی تھے۔اس کتاب کا اثر نہ صرف ان عیسائیوں پر پڑا جو وفات مسیح میں اپنے مذہب کی موت تصور کرتے تھے، بلکہ بڑے بڑے مسلمان علماء اور فلاسفروں پر بھی اس کا بہت بڑا اثر ہوا۔چنانچہ مجھے مصر کے مشہور مفکر احمد زکی پاشا نے کئی مرتبہ کہا کہ میں خیال کرتا تھا احمد یوں میں کوئی مسلمان نہیں لیکن اب اس رسالہ کے مطالعہ کے بعد میرا یہ خیال ہے کہ وفات مسیح کے متعلق جو تحقیق احمدیوں نے کی ہے اور جس سے اسلام کی برتری ثابت ہوتی اور عیسائیت پر کاری ضرب لگتی ہے، یہ ایک امر ہی احمدیوں کی تمام اسلامی فرقوں پر فضیلت کے لئے کافی ہے۔ان کے علاوہ ایک اور ممتاز شخصیت یعنی محسن بک البرازی نے جو حکومت سوریا کے سابق وزیر اور اب سوریا کے القصر الجمہوری کے معتمد اول ہیں، اس علمی تحقیق سے متاثر ہو کر مجھے کہا، کہ افسوس! اگر میرے دنیوی مشاغل مانع نہ ہوتے تو سب سے بہترین کام اور سب سے معزز پیشہ جس کے اختیار کرنے پر میں فخر کرتا یہاں تبلیغ اسلام کا تھا جسے احمدی حضرات سر انجام دے رہے ہیں۔۔دمشق اور فلسطین میں شمس صاحب نے بھی کئی کتابیں اور پمفلٹ مشائخ و علماء کے غلط عقائد کی تردید میں لکھے جن میں سے بڑی بڑی کتابوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔میزان الاقوال، توضیح المرام، دليل المسلمين، جـوهـر الكلام، الفوز المبين، كشف اللثام، الحق ابلج والباطل