حیات شمس — Page 250
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 234 پر میں نے اس سے کہا کہ صداقت انا جیل پر شمس صاحب سے پہلک مناظرہ کر لوتا لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ کیا واقعہ موجودہ اناجیل الہامی اور خدا کی طرف سے ہیں؟ اس پر اس نے فوراً میری دعوت قبول کر لی اور خیال کیا کہ خوب شکار ہاتھ آیا۔اس نے ہماری دعوت پر بہت خوشی کا اظہار کیا کیونکہ اسے خیال تھا کہ اس کے دلائل لا جواب ہیں لیکن مناظرہ شروع ہونے پر جب اسے اپنے دلائل کا بودا پن معلوم ہوا اور لوگوں پر اس کے خلاف برا اثر پڑنے لگا تو اس نے ہم سے درخواست کی کہ بقیہ بحث کسی آئندہ روز پر ملتوی کر دی جائے۔لیکن جب دوسری مرتبہ مناظرہ شروع ہوا تو پہلی دفعہ سے بھی زیادہ اس کی سبکی ہوئی اور دلائل و براہین اسلامی نے اس کے چھکے چھڑا دیئے اور اسے ایسا مبہوت کیا کہ اس نے دوبارہ درخواست کی کہ بقیہ مناظرہ آئندہ پر ملتوی کیا جائے۔ہم نے منظور کر لیا لیکن تیسری مرتبہ جب ہم آئے تو بجائے مناظرہ کرنیکے اس نے کہا کہ شمس صاحب احمدی مناظر ہیں اور مسلمان احمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے اس لئے وہ احمدی مناظر سے بحث کرنے کیلئے تیار نہیں۔مولانا جلال الدین شمس صاحب نے فرمایا کہ تم عیسائیت کے وکیل ہو اور میں اسلام کی طرف سے مدافعت کرتا ہوں۔جب میں نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ آیا تمہیں باقی عیسائی فرقے عیسائی قرار دیتے ہیں یا نہیں تو پھر تمہیں کہاں سے یہ حق پہنچتا ہے کہ مجھ پر یہ اعتراض کرو۔اس کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہیں کہ تم مناظرہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے اور اسلامی دلائل سے عاجز آکر اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے ہو لیکن اس طرح غیرت دلانے کے باوجود بھی اسے مناظرہ جاری رکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔مسلمان حاضرین نے پر جوش تالیوں سے عیسائیت پادری کی شکست اور اسلامی مبلغ کی فتح کا اعلان کیا اور کئی منٹ تک اپنی تالیوں سے میدان مناظرہ کو گرمائے رکھا۔مصر میں قیام جماعت اس کے بعد شمس صاحب نے اس موضوع پر ایک پمفلٹ بنام تـحـقـيـق الاديان“ شائع کیا جس میں ثابت کیا کہ موجودہ اناجیل وحی الہی نہیں ہیں اور عیسائیوں کو چیلنج کیا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو اس کا جواب لکھیں لیکن تمام پادریوں نے ایسی خاموشی اختیار کی گویا یہ رسالہ ان کے لئے ایک صاعقہ تھی جس نے سب پر موت طاری کر دی۔اسی اثناء میں مصری عیسائیوں کی مجلس اعلیٰ کے ایک رکن سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ رسالہ جس کے کل ہیں صفحات ہیں، اس کے جواب پر غور کرنے کیلئے مجلس اعلیٰ کی عنقریب ایک میٹنگ منعقد ہونے والی ہے۔بعد میں معلوم ہوا کہ جب یہ معاملہ مجلس میں پیش