حیات شمس

by Other Authors

Page 252 of 748

حیات شمس — Page 252

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 236 لجلج ، ان کے علاوہ تردید بہائیت پر آپ نے ایک کتاب تنویر الالباب اور صداقت احمدیت پر نداء عام کے نام سے لکھی۔ان کتابوں اور رسالوں کا یہ اثر ہوا کہ مخالف مولوی پسپا ہو گئے اور ان کی معقول تردید سے عاجز آگئے۔مجھے دمشق کے بعض مشہور علماء نے کہا کہ بلا ریب احمدیت آسمانی تحریک ہے، یہ ضرور ان علاقوں میں پھیلے گی اور غلبہ پائے گی اور بعض نے کہا کہ احمدیت ایک اہم تحریک ہے اس کے متعلق تحقیق ضروری ہے۔شمس صاحب نے اپنی کتاب ”میزان الاقوال میں تمام علماء ومشائخ کو چیلنج کیا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو اس کا رڈ لکھیں۔اس کتاب میں بیس سے زائد سوالات نزول مسیح اور ظہور دجال کے متعلق تھے۔آپ نے مولویوں سے مطالبہ کیا کہ ان کے معتقدات کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم اور احادیث میں تناقض لازم آتا ہے نیز خود ان کے بعض عقائد بعض سے ٹکراتے ہیں کیونکہ وہ ظاہری الفاظ سے تمسک کرتے ، اور حقیقی معنوں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اس کا جواب انہوں نے وہی دیا جو ہمیشہ مخالفین حق راستبازوں کو دیا کرتے ہیں یعنی بجائے دلائل کا مقابلہ دلائل ہی سے کرنے کے انہوں نے شمس صاحب کے قتل کی سازش کی، اور رات کی تاریکی میں ان پر خنجر سے حملہ کر کے انہیں سخت زخمی کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے آپ کو سلامت رکھا اور اس مہلک زخم سے صحت عطا فرمائی تا آپ ہمارے امام المصلح الموعود کے جھنڈے تلے خدمت واحیاء اسلام کے لئے کوشاں رہیں۔ہمارے مقابلہ کے لئے فلسطین کی مجلس اعلیٰ اسلامیہ نے ایک خاص مبلغ شیخ مراد اصفہانی مقرر کیا۔اس مبلغ کی اپنی عملی حالت یہ تھی کہ یورپین لباس میں ملبوس اور ڈاڑھی منڈاتا ہے۔اس کے بارہ میں شمس صاحب نے مجھے لکھا کہ میں فلسطین جا کر اسے ملوں۔چنانچہ میں فلسطین گیا اور اُس سے ملا۔کہا بیر میں میرا اور اس کا مناظرہ ہو ا جس میں اُسے ایسی ہزیمت اٹھانی پڑی کہ وہ گاؤں ترک کرنے پر مجبور ہو گیا۔پھر مجھ سے اس نے درخواست کی کہ میں اس سے دوبارہ حیفا میں جمعیتہ شبان المسلمین کے رو برو مناظرہ کروں۔میں نے اس کی دعوت قبول کی ، اور جمعیۃ شبان المسلمین کے ہال میں بھی اُس سے مناظرہ کیا۔اس مناظرہ میں بہت سے ممتاز لوگ شریک ہوئے۔جمعیتہ کے سیکرٹری صاحب جو ایک ممتاز وکیل ہیں وہ بھی موجود تھے۔اس مناظرہ میں بھی خدا کے فضل سے اُسے شکست فاش نصیب ہوئی۔میں نے خود حاضرین مناظرہ کو مناظرہ کے بعد باہم ایک دوسرے سے یہ کہتے سنا کہ واقعی احمدیت حق ہے۔اس مناظرہ سے فلسطین میں غیر احمدی علماء کے مقابلہ میں بھی احمدیت کے