حیات شمس — Page 249
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 233 طبع کرائی جائے گی لیکن جب مناظرہ ہو چکا تو وہ اپنے اس عہد سے پھر گیا اور مناظرہ کو طبع کرانے پر رضامند نہ ہوا۔اس مناظرہ کے چند سال بعد میں نے اسے احمدی رسالہ البشری میں جو عربی زبان میں جبل الكرمل سے شائع ہوتا ہے کئی قسطوں میں شائع کیا۔نیز اسے کتابی صورت میں اعــــــــــــب الاعاجيب فى نفى الاناجيل لموت المسيح علی الصلیب“ کے نام سے شائع کیا۔اس مناظرہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ قبول احمدیت کیلئے کھول دیا اور مجھے مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اس کے کچھ عرصہ بعد میں موسمی تعطیلات گزارنے کیلئے دمشق سے کچھ فاصلے پر بلودان نامی ایک پہاڑی گاؤں میں گیا۔وہاں کے پادری سحم الذہبیہ نامی سے ملنے کا اتفاق ہوا۔وہاں کے قیام کے دوران میں اس پادری سے کئی مباحثات ہوئے جن کے نتیجہ میں آخر کا را سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی اور اس نے یہ کہہ کر مجھ سے اپنا پیچھا چھڑایا کہ گو میں آپ کے دلائل و براہین کا جواب نہیں دے سکتا لیکن مصر میں ایک بڑے پادری صاحب ہیں وہ آپ کے تمام اعتراضات کا جواب دیں گے۔رساله البرهان الصريح في ابطال الوهية المسيح میں نے مولانا شمس صاحب کو جو ان دنوں مصر میں تھے لکھا کہ وہ اس پادری سے مل کر تبادلہ خیالات فرمائیں لیکن مصر کے تمام پادریوں نے الوہیت مسیح وغیرہ میں سے کسی موضوع پر بھی شمس صاحب سے مناظرہ نہ کیا، اور کوئی بھی مقابلہ پر نہ آیا۔شمس صاحب نے بڑی تحدی سے ایک رسالہ البــــر هـــــان الصريح في ابطال الوهية المسیح لکھ کر تمام پادریوں کو چیلنج کیا کہ اس کار دیکھیں ، مگر کسی کو اسکا جواب دینے اور چیلنج قبول کر نیکی ہمت نہ ہوئی۔اس کے بعد شمس صاحب مصر سے واپس دمشق تشریف لے آئے۔پھر کچھ عرصہ بعد بحیثیت مبلغ آپ دوبارہ مصر تشریف لے گئے۔مجھے بھی آپ کی ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا۔مصر پہنچنے پر ہم نے دیکھا کہ بعض امریکی مشن بعض خاص دنوں میں علی الاعلان مسیحیت کی تبلیغ کرتے ہیں اور مصر کے علماء باوجود کثرت کے کوئی بھی ان کی تردید کیلئے نہیں آتا اور وہ لگا تار اسلام اور بانی اسلام کے خلاف مسلمان نو جوانوں میں زہر پھیلا رہے ہیں۔اس پر خاکسار اور شمس صاحب ایک مشن ہاؤس میں گئے۔وہاں ہم نے دیکھا کہ ایک مسیحی عرب شیخ کامل منصور نامی صداقت انا جیل پر لیکچر دے رہا ہے اور یہ کہ رہا ہے کہ دیکھو انا جیل کی اشاعت کسی جنگ و جدال کی مرہونِ منت نہیں بلکہ وہ اپنی روحانی قوت سے اکناف عالم میں پھیلیں۔لیکچر کے اختتام