حیات شمس — Page 248
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 232 اس لئے انہوں نے مدارس ، ہسپتال اور مطب جاری کر دیئے اور ان کی آڑ میں عیسائیت کی تبلیغ شروع کر دی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت اور ڈسٹرکٹ بورڈوں کے سکول آج سے دس برس پہلے تک بالکل مغربیت کے رنگ میں رنگین ہو چکے تھے حالانکہ اس سے پچاس سال قبل کسی یورپین کو اتنی اجازت بھی نہ تھی کہ وہ اپنی ہیٹ سر پر رکھ کر دمشق کے بازاروں سے گزر سکے۔ان یورپین مدارس کا اثر اتنا وسیع ہوا کہ مسلمان طالبات بکثرت یورپین لباس میں ملبوس نظر آنے لگیں اور اکثر نے پردے کو خیر باد کہہ کر نہایت ہی گھناؤنی صورت میں یورپین لیڈیوں کی تقلید اختیار کر لی۔یورپین مدارس کی تعداد کا اس امر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیروت کالج کے پرنسپل نے جب دمشق پر فرانسیسی انقلاب آیا تو اپنے ایک لیکچر میں فخریہ بیان کیا کہ آج سے پچاس سال پہلے بیروت میں صرف ایک عیسائی سکول تھا لیکن اب شام و لبنان میں تقریباً ایک سو عیسائیت سکول ہیں۔بلاد عربیہ کے مشہور ترین مدارس جو عیسائیوں نے قائم کئے ان میں سے ممتاز مدارس بالخصوص مصر و شام میں امریکنوں اور فرانسیسیوں کے ہیں۔عیسائیوں نے سارے اسلامی ممالک میں سکولوں اور ہسپتالوں کے ذریعہ اپنے مذہبی اثر کو اتنا وسیع کیا کہ اگر کسی عرب باشندہ کے سامنے تبلیغ اور مبلغ کا نام لیا جا تا تو وہ اس سے صرف عیسائیت کی تبلیغ اور عیسائیت کا مشنری سمجھتا۔تبلیغ اسلام اور مبلغ اسلام کے نام سے عرب دنیا قطعی نا آشنا تھی اور اس حقیقت سے انہیں محض سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت نے روشناس کیا، کہ تبلیغ سے مراد صرف عیسائیت ہی کی تبلیغ نہیں بلکہ تبلیغ اسلام بھی موجود ہے اور مبلغ سے محض عیسائیت مشنری ہی مراد نہیں بلکہ مبلغ اسلام بھی موجود ہیں۔۔۔۔۔سب سے پہلا تحریری مناظرہ سب سے پہلا تحریری مناظرہ جناب مولانا جلال الدین صاحب شمس اور امریکن پادری ریورنڈ الفرڈ نلسن صاحب کے درمیان میری کوششوں سے دمشق میں ہوا۔موضوع مناظرہ یہ تھا کہ مسیح ناصری کی وفات جیسا کہ قرآن مجید نے فرمایا ہے صلیب پر نہیں ہوئی۔میرے قبول احمدیت کا سب سے بڑا سبب یہی مناظرہ تھا کیونکہ میں نے دیکھا کہ احمدی مبلغ کے دلائل و براہین لا جواب تھے۔مسیحی مناظر سے ان کا کوئی جواب نہ بن پڑا اور عزت و غلبہ اسلام نصف النہار کی طرح ظاہر ہو گیا۔عیسائی پادری اور مولانا شمس میں مناظرہ سے پہلے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ اختتام مناظرہ پر ساری روئداد مناظرہ فریقین کے خرچ پر