حیات شمس — Page 247
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 231 ہے۔یہ مضمون عربی ممالک میں احمدیت کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔اس مضمون کے بعض حصص پیش کئے جارہے ہیں۔آپ تحریر کرتے ہیں : جن دنوں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہندوستان میں احیاء اسلام کیلئے کوشاں اور ہندوستان کے رہنے والوں کو علی الاعلان دعوتِ اسلام دینے میں مشغول تھے انہی ایام میں حضور نے اسلام کی تائید میں اپنی جلیل القدر مطبوعہ کتب ممالک بیرون ہند میں بھی ارسال فرمائیں۔آپ نے ہندوستان سے باہر کے دور ونزدیک تمام ممالک میں اپنی تالیفات جو دلائل و براہین سے مملو ہیں اور جن سے صداقت اسلام روز روشن کی طرح چمک اٹھی بھیجیں۔جن ممالک میں حضور کی کتب پہنچیں ن میں بلاد عرب بھی شامل ہیں۔حضور نے اپنی کتب میں حج قاطعہ سے ان تمام تحریکات کارڈ فرمایا جو اس زمانہ میں اسلام کے خلاف اٹھ رہی تھیں بالخصوص عیسائیت کا جس نے تمام اسلامی ممالک میں فتنہ وفساد پیدا کر رکھا تھا اور جس کے مقابلہ سے عرب کلیۂ لا پرواہ ہو کر گہری نیند میں مدہوش خراٹے بھر رہے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ عرب ممالک میں مذہبی آزادی مفقود تھی۔میری مراد مذہبی آزادی کے فقدان سے یہ نہیں کہ وہاں شعائر اسلامی اور مراسم دینی کی بجا آوری کی ممانعت تھی بلکہ مراد یہ ہے کہ ترکی حکومت کے ماتحت کسی شخص کو تبلیغ کرنیکی اجازت نہ تھی یعنی نہ کوئی غیر مسلم عیسائی وغیرہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرسکتا تھا اور نہ اسلامی اقلیت والے فرقے جیسے شیعہ اہلحدیث وغیرہ اپنے اعتقادات و خیالات کی اشاعت کر سکتے تھے۔حکومت ترکیہ کے ماتحت سب سے بڑا اسلامی فرقہ جس کی ملک میں اکثریت تھی سنی مسلمانوں کا تھا اور ترکی حکومت اسی فرقہ کے مسلمانوں کی حکومت تھی اس کیلئے بہت آسان تھا کہ وہ اشاعتِ اسلام کی کوشش کرتی اور اس کیلئے مبلغ تیار کرتی لیکن افسوس کہ اس نے اس طرف کوئی توجہ نہ کی۔اس کے علاوہ بھی عرب ممالک میں دعوتِ اسلام کیلئے کوئی تبلیغی جماعت نہ تھی اور نہ انہیں اس امر کا کوئی حقیقی احساس ہی تھا کہ اسلام ان دنوں کن مصائب و آفات میں گھرا ہوا ہے۔ہاں بہت سے برائے نام دینی مدارس ضرور موجود تھے جن میں درسی کتب بطور تقلید تو بے شک پڑھائی جاتی تھیں مگر متعلمین کو حقائق و معارف اسلام اور اس کے احکام کی حکمتوں سے بالکل بے خبر رکھا جاتا تھا۔یور بین اقوام نے اس موقع کو غنیمت جان کر بہت سے عیسائی مشن بلا دعر بیہ میں بھیج دیئے اور انہوں نے ان مشنوں کا تانتا باندھ دیا۔لیکن چونکہ ایسے مشن علی الاعلان عیسائیت کی تبلیغ نہ کر سکتے تھے