حیات شمس

by Other Authors

Page 246 of 748

حیات شمس — Page 246

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 230 سے گفتگو شروع ہوئی پھر اس کے بعد دوسرے شیخ سے جو مصر سے بلایا گیا تھا مگر وہ عصبی المزاج، تیز طبیعت دوسرے کی بات ہی نہ سنتا تھا۔آخر میں نے اس کو کہا تم جو کچھ بیان کرنا چاہتے ہو بیان کرلو پھر میں اس کا جواب دونگا۔تقریباً آدھ گھنٹہ تک مہدی و دجال و حیات عیسی علیہ السلام کے متعلق روایات خرافیہ بیان کرتا رہا جب میری باری آئی تو پھر نہ سنے کہنے لگا جو کچھ تم بیان کرو گے وہ سب مردود ہے۔میں نے کہا پھر تم یہاں آئے کس لئے ہو؟ دنیا میں کونسا عقلمند ہے جو دوسرے کی بات سننے سے قبل ہی حکم لگائے۔تم احقاق حق کے لئے نہیں آئے۔احمدی احباب اس سے سخت برافروختہ ہوئے اور مجھ سے کہا کہ ہمیں ایسے لوگوں سے مباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔مگر حاضرین کے کہنے پر تین چار دفعہ میں نے تقریر شروع کی لیکن وہ سننے کیلئے تیار نہ ہوئے۔آخر احمدیوں نے مجھ سے سخت اصرار کیا کہ اب آپ ان لوگوں سے خطاب ہی نہ کریں اس پر گفتگو ختم ہوگئی۔نتیجہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھا رہا کیونکہ مشائخ نے سارا زور اس بات پر لگایا کہ میں تقریر نہ کروں جس سے وہ سمجھ گئے کہ حق ہمارے پاس ہے ورنہ وہ بھی ہماری تقریر ویسے ہی سنتے جیسے ہم نے خاموشی سے ان کی تقریر سنی۔آخر خائب و خاسر جیسے آئے ویسے ہی واپس گئے۔پریزیڈنٹ و سیکرٹری جماعت احمدیہ مصر و مولوی محمد نواز صاحب کی طرف سے خطوط آئے ہیں جس میں انہوں نے مجھے مصر جانے کیلئے تحریر کیا ہے۔اس لئے میں 31 اگست 1930ء کو مصر جا رہا ہوں۔احباب سے دعا کے لئے عاجزانہ درخواست ہے۔عربی ممالک میں تبلیغ ، ایک جائزہ والسلام خاکسار جلال الدین شمس احمدی۔حیفا فلسطین (الفضل قادیان 27 ستمبر 1930ء) محرم السيد منير الصنی امیر جماعت احمد یہ دمشق کے مشاہدات ) ذیل کا مضمون مکرم سید منیر الحصنی صاحب مرحوم نے عربی زبان میں لکھا تھا جس کا اردو ترجمہ مکرم مولا نا عبد الاحد صاحب فاضل نے کیا۔اس مضمون میں دمشق میں تاریخ احمدیت کے بارہ میں آپ کے مشاہدات شامل ہیں جس میں بزرگان سلسلہ خصوصاً حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب، حضرت مولانا شمس صاحب ، حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور دیگر احباب جماعت کی خدمات سلسلہ کا ذکر