حیات شمس — Page 226
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 210 ممالک میں بھی پہنچ چکے ہیں۔میں اپنی عینی شہادت کی بنا پر یقین دلاتا ہوں کہ مسلمانوں کی ایک جماعت عیسائیت میں داخل ہو چکی ہے جن میں سے بعض علماء بھی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جولوگ عیسائی ہوتے ہیں وہ دنیوی منافع کی خاطر ہوتے ہیں مگر میں کہتا ہوں اگر اس بات کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی ہم قومی غفلت کے جرم سے بری قرار نہیں دیئے جاسکتے۔اس لئے کہ ان کا دنیوی اغراض کے لئے اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے قلوب ایمان سے خالی ہیں اور اسلام کی صداقت پر انہیں یقین نہیں ہے۔مصر میں جا بجا تبلیغی مشن موجود ہیں اور ایک خاص نظام کے ماتحت وہ مسلمانوں کو مسیحی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔امریکن مشن کے انچارج نے کہا تقریباً دوسو مسلم مسیحی ہو چکے ہیں۔جو شخص ان بلاد کا بغور ملاحظہ کرے گا وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ تبلیغ مسیحی کا مسلمانوں کی طرف سے بالمثل مقابلہ نہیں کیا جاتا۔از ہر کے ایک استاد سے دوران گفتگو میں میں نے دریافت کیا کہ پادریوں نے اسلام کے خلاف بہت سی کتا ہیں لکھی ہیں ان کا جواب کیوں نہیں دیتے۔فرمایا ہم تو وہ کتا بیں ہی نہیں پڑھتے۔میں نے کہا آپ پڑھتے نہیں اور جو پڑھتے ہیں وہ دین سے اچھی طرح واقف نہیں ہوتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ عیسائی نہ بھی ہوں تو بھی وہ دین سے دور جا پڑتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملحدین کی جماعت روز بروز بڑھ رہی ہے۔کہنے لگے علماء کے پاس قوت تنفیذ یہ نہیں ہے۔میں نے کہا قوت تنفیذ یہ سے آپ کی مراد کیا ہے۔فرمانے لگے اگر علماء کے پاس قوت تنفیذ یہ اور امر ہوتو پھر بھلا کوئی مرتد ہوسکتا ہے۔ایسے شخص کو فورا قتل کر دیا جائے۔میں نے کہا قرآن مجید میں تو تبلیغ و وعظ کا ارشاد ہے قتل کا تو کہیں حکم نہیں۔نیز اس وقت تقریباً تمام عالم پر مسیحی حکمران ہیں۔اگر وہ بھی قتل مرتد کا حکم نافذ کرنا چاہیں تو انہیں بھی اس امر کا حق ہوگا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم کسی مسیحی کو اسلام میں داخل نہ کر سکیں گے۔غرض کہ مسلمان ابھی تک تبلیغ مسیحی کی طرف سے غافل ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئے۔ہم نے تبلیغ مسیحی کا مقابلہ شروع کر رکھا ہے اور ان کے مقابلہ میں کتب بھی حسب استطاعت شائع کی ہیں اور مباحثات بھی کئے ہیں جن کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وہ نوجوان جو بپتسمہ لے چکے تھے پھر اسلام کی طرف واپس آئے۔اب وہ خود انکی مجلسوں میں جا کر ان کا مقابلہ کرتے ہیں اور فلسطین میں بھی ایک مسیحی اسلام میں داخل ہوا ہے۔اب میں چند نو جوانوں کو پادریوں کے مقابلہ کیلئے تیار کر رہا الفضل قادیان 29 اپریل 1930ء) ہوں۔