حیات شمس

by Other Authors

Page 225 of 748

حیات شمس — Page 225

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 209 الحاد کی طرف لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے۔کھانے سے فارغ ہو کر مجھ سے گفتگو کر نے کیلئے وہی متعین ہوا۔پہلے صدق مسیح موعود پر دلیل پوچھی۔میں نے قرآن مجید سے ایک دلیل عقلی صورت میں پیش کی اور پھر بحث ، وجود الہی اور اثبات وحی پر ہوئی۔اس پر ایسا رعب چھایا کہ وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔اسی اثناء میں احمد ز کی باشا نے بحث کو دوسری طرف ٹال دیا۔پھر نزول مسیح کی احادیث پر بحث ہوتی رہی۔انتہائے گفتگو پر انہیں سلسلہ کی کتابیں مطالعہ کیلئے دی گئیں۔انہوں نے خواہش کی کہ ان سے پھر ملاقات ہو۔کتاب البرہان الصریح کی مقبولیت ہے۔البرهان الصريح في ابطال الوهية المسيح “ کو جنہوں نے پڑھا ہے نہایت پسند کیا۔برادرم محمد طه اسلام تحریر فرماتے ہیں میں نے اس کتاب کے نسخے عدن ، سنگا پور ، بغداد، موصل، حلب، بمبئی روانہ کئے ہیں اور مصر میں رئیس الازہر اور احمد تیمور باش و غیرہ کو بھیجے ہیں۔مسیحیوں میں بھی تقسیم کئے گئے ہیں اور بہت سے نسخے فروخت بھی کئے ہیں۔پھر لکھا ہے کہ جسے ہم دیتے اسے کہہ دیتے تھے کہ اگر پسند نہ آئے تو اپنی قیمت لے لیں اور کتاب واپس کر دیں مگر کسی نے کتاب واپس نہیں کی۔ایک شیخ نے خطبہ جمعہ میں لوگوں کو ان کے خلاف بھڑ کایا ہے۔مجھے اور انہیں کفر کا فتویٰ دیا۔اس پر لوگوں کو اس کتاب کے دیکھنے کا اور زیادہ شوق ہوا۔برادر محمد طہ نے پانچ سو نسخے اور طلب کئے ہیں جو انہیں بھیجے گئے نیز مسلمانوں کی ایک جماعت نے اشتہار دیا جس میں مشائخ کورڈ لکھنے کیلئے غیرت دلائی اور مفتی اور قاضی اورسب مشائخ کو نام بنام بھیجا گر کسی نے بھی جواب نہ دیا۔حیفا میں جب مشائخ سے مناظرات ہوئے تو انہوں نے ہمیں مسیحی کہنا شروع کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے چاہا کہ وہ اس جھوٹے الزام کا مزا چکھیں۔آخری فتنہ میں جو مسلمانوں اور یہود کے درمیان ہوا انہوں نے مسیحیوں سے مل کر جمعیت قائم کی جس کا نام الجمعية المسيحية الاسلامیہ رکھا۔جوشخص اس میں داخل ہوا سے قمیص یا کوٹ پر لٹکانے کیلئے ایک نشان دیا جاتا ہے جس پر صلیب اور ہلال کی تصویر ہے۔میں نے بعض کو ان میں سے کہا کہ ہمیں تو تم مسیحی ہونے کا خلاف واقعہ طعن دیتے تھے مگر اب تو تم نے خود مسیحی ہوکر دکھایا۔بلا د عر بیہ میں تبلیغ مسیحی کا مقابلہ الفضل قادیان 7 فروری 1930ء) اخبار بین اصحاب سے مخفی نہیں کہ مسیحی متاد دنیا کے ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور کچھ مدت سے عربی