حیات شمس — Page 227
حیات ٹس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 211 رسالہ نداء عام حمص میں برادرم شیخ محمد طه الكاف نے جب رساله البرهان الصريح في ابطال الوهية المسيح لوگوں میں تقسیم کیا تو اس میں چونکہ وفات مسیح کا بھی ذکر تھا اس لئے بعض مشائخ نے مساجد میں ہمارے خلاف لیکچر دیئے اور مجھ پر اور برادرم طه الکاف پر کفر کا فتویٰ لگایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کو کتاب مذکور کے دیکھنے کا اور بھی زیادہ شوق پیدا ہو نیز انہوں نے لکھا لوگ اکثر مسئلہ وحی و نبوت اور مسیح موعود کے ساتھ علیہ الصلوۃ والسلام کہنے پر اعتراض کرتے ہیں ان کا جواب بذریعہ ٹریکٹ دیا جائے۔سو برادرم منیر آفندی اٹھنی نے ” نداء عام“ کے عنوان کے ماتحت ہیں صفحہ کا ٹریکٹ لکھا جس میں جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات کا تذکرہ اور وفات مسیح اور عدم رجوع مسیح ناصری اور مذکورہ بالا سوالات کا مفصل جواب دیا۔یہ رسالہ ایک ہزار کی تعداد میں چھپوایا گیا ہے۔الحق ابلج والباطل لجلج ایک طرابلسی شیخ نے البرھان الصریح کے رد میں تین چار صفحات لکھے مگر ان میں سوائے سب وشتم اور گالیوں کے کچھ نہ تھا۔میں نے اس کا جواب مذکورہ بالا عنوان کے ماتحت لکھا ہے۔یہ ٹریکٹ چار صفحہ کا ہے اور ایک ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا ہے۔مشائخ نے حقیقی جواب سے عاجز آکر جمعہ کے خطبات میں عوام الناس کو احمدیوں کے خلاف بھڑ کا نا شروع کیا اور ایک سفر نامہ تیار کر کے حاکم شہر سے برادرم طہ الکاف کا اخراج طلب کیا اور یہ کہ اسے کتب احمدیت کی اشاعت سے منع کیا جائے لیکن حاکم شہر کے پاس بعض معززین نے شہادت دی کہ یہ سفر نامہ الکاف کے دشمنوں کی طرف سے ہے اور ذاتی عداوت کی بناء پر لکھا گیا ہے۔چنانچہ ایک معزز مسیحی نے بھی ان کے حق میں شہادت دی۔اس بناء پر انہیں کچھ نہ کہا البتہ ظاہری طور پر مشائخ کی رعایت کر کے ان کے گھر کی تلاشی کرائی۔مخالفت کی وجہ سے انہیں مادی لحاظ سے تو نقصان پہنچا اور کئی دن تک وہ دکان نہ کھول سکے مگر انہوں نے لکھا ہے کہ کچھ بھی ہو ہم حق بات کو چھوڑ نہیں سکتے آخر مرنا تو ایک ہی دفعہ ہے۔مسیحی تو اب صاف طور پر لوگوں سے کہتے ہیں کہ مشائخ کا حاکم کے پاس جانا دلیل ہے اس بات کی کہ وہ جواب دینے سے عاجز ہیں اور اپنی شکست خود تسلیم کرتے ہیں۔آخری خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ اب بعض اشخاص علانیہ کہتے ہیں کہ ہم بھی احمدی جماعت سے ہیں۔