حیات شمس — Page 224
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 208 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ارتداد ہوا اسی طرح مسیحیوں نے بھی مسیح کو خدا ان کی موت کے بعد قرار دیا اور ان کا قیامت کو یہ جواب دینا ان کے عدم رجوع کی بین دلیل ہے ورنہ وہ مسیحیوں کے ارتقاء سے لاعلمی کا اظہار نہ کرتے۔اس دلیل کا وہ کوئی جواب نہ دے سکا بلکہ آیت انى مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ کی تین چار تو جیہیں اور آیت اِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ کو پیش کیا۔جواب میں نے تمام پیش کردہ تو جیہوں کو باطل ثابت کر کے اصل تفسیر پیش کی۔اسی طرح آیت إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَاب کی پیش کردہ تعبیر پر چھ اعتراضات کئے اور اصل تفسیر بتائی۔وہ جواب سے بالکل عاجز آ گیا۔آخر کہنے لگا اگر مان لیں کہ مسیح وفات پا گیا تو احادیث میں جو اس کے نزول کی خبر موجود ہے اس کا کیا ہوگا۔میں نے کہا احادیث کے متعلق ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اگر کوئی حدیث ظاہر میں قرآن مجید کے مخالف ہو تو ہم اس کی تاویل کر کے قرآن مجید کے موافق کرنے کی کوشش کریں گے۔لیکن اگر کسی طرح بھی موافق نہ ہو سکے تو ہم اس حدیث کو قبول نہ کریں گے۔آپ بتائیں آپ کا عقیدہ کیا ہے۔اس نے کہا حدیث قرآن مجید کو منسوخ کر سکتی ہے۔تب میں نے مفصل اس عقیدہ کی دھجیاں اڑائیں۔پھر احادیث نزول مسیح ابن مریم اور آیات قرآن مجید میں وجہ موافقت بیان کی۔نتیجہ یہ تھا کہ حاضرین میں سے بعض نے شیخ کے منہ پر کہہ دیا آپ نہ تو اپنی کسی دلیل کو ثابت کر سکے اور نہ ہی وفات مسیح پر پیش کردہ دلائل کو رد کر سکے۔پہلے تو کہتا تھا کہ میں ہر روز آپ سے گفتگو کیلئے وقت نکال سکتا ہوں مگر اس کے بعد اس نے گفتگو کرنے کا نام تک نہیں لیا۔ازہر میں ان مناظروں کی خبر پہنچ گئی۔بعض مشائخ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ان مسائل میں ان کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔احمد ز کی باشا تیمور سے ملاقات ایک روز ہم احمد ز کی باشا تیمور کی ملاقات کیلئے گئے۔پہلے تو انہوں نے تاریخی بحث شروع کی جب سلسلہ کے متعلق ذکر آیا تو کہا شام میں احمدیت زور پکڑ رہی ہے میں نے اس کے متعلق بہت سنا ہے اور اخباروں میں بھی پڑھا ہے۔پھر انہوں نے بعض خلاف واقعہ افواہوں کا ذکر کیا جن کی حقیقت بتائی گئی۔پھر مسائل مختلفہ فیہا پر بحث ہوئی اور بقیہ بحث دوسرے دن پر ملتوی کی گئی۔اس دن انہوں نے ہمیں دعوت دی اور چھ سات اور لوگوں کو بھی بلایا جن میں سے بعض ملحدین تھے۔ایک رسالہ کا ایڈیٹر جس میں