حیات شمس — Page 223
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس سفر مصر $ 1931-1930 ( حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) 207 برادرم منیر الحصنی 4 دسمبر 1929ء کو حیفا پہنچے۔دو دن وہاں قیام کیا۔سفر سے پہلے سید رشدی آفندی البسطی سیکرٹری جماعت احمد یہ حیفا کے گھر احمدی دوست جمع ہوئے۔میں نے انہیں مناسب ہدایات دیں اور تبلیغ کی طرف توجہ دلائی۔برادرم منیر آفندی نے بھی ان کے الوداعی کلمات کے جواب میں تقریر کی۔سات دسمبر کی صبح کو ہم مصر روانہ ہوئے۔مصر میں بہت سے شامی موجود ہیں۔ان کے ایک مشہور لیڈر ڈاکٹر عبد الرحمن شھبند رکی ملاقات کے لئے گئے۔ان کے پاس اور بھی بہت سے شامی دوست موجود تھے۔تقریباً تین گھنٹے تک وفات مسیح ، دجال ، طلاق ، تعدد ازدواج اور نزول وغیرہ مسائل پر گفتگو ہوئی۔حاضرین نہایت محظوظ ہوئے۔ڈاکٹر عبدالرحمن شھبند ر نے ہمارے آنے کے بعد برادرم منیر الحضی کے بڑے بھائی سے کہا آج بحث نہایت لذیذ تھی۔حاضرین نے دوسروں کے پاس سلسلہ کا ذکر کیا۔جامعہ الازہر کے ایک شیخ سے مناظرہ دو شخص حاضرین میں سے ہمارے مکان پر آئے اور کہا کہ آپ کی باتیں نہایت معقول ہیں ہم چاہتے ہیں کہ کسی شیخ کے ساتھ آپ کی گفتگو سنیں۔ہم نے کہا مناظرہ سے یونہی شور پڑتا ہے نتیجہ کچھ نہیں نکلتا بہتر ہے کہ آپ کسی شیخ سے دلائل سن لیں اور پھر ہم سے ان کا جواب دریافت کر لیں اور خود فیصلہ کر لیں کہ کون حق پر ہے لیکن انہوں نے بحث پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہم ایسا شیخ لائیں گے جو وسیع الصدر ہو۔مناظرہ ڈاکٹر عبدالرحمن شھبندر کے مکان پر ہونا قرار پایا۔سب سے پہلے شیخ نے مجھ سے وفات مسیح کا ثبوت طلب کیا۔میں نے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی اور اس کی تفسیر کیلئے بخاری کی حدیث فَاقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ پیش کی اور بتایا کہ اس آیت اور حدیث سے صاف واضح ہوتا ہے کہ جیسے