حیات شمس — Page 211
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس احمدی خدا تعالیٰ کا مظہر ہونے سے آپ کی کیا مراد ہے۔بہائی کہ وہ مقام الوہیت پر پہنچے ہوئے تھے۔انکی باتیں خدا کی باتیں ہیں۔195 احمدی (لو تقول کی آیت اور انکے اس عقیدہ میں غور کرنا چاہئے کہ بہائی آیت لو تقول کو اس کے صدق کی دلیل پیش نہیں کر سکتے ) اس کلام کی جس کو آپ خدا کا کلام قرار دیتے ہیں کیا ضرورت تھی جبکہ قرآن مجید ایک کامل شریعت موجود تھی کیونکہ خدا بے ضرورت کام نہیں کیا کرتا۔بہائی شریعت اسلامیہ اس وقت نازل ہوئی جبکہ لوگ وحشی اور جاہل تھے۔اس لئے محمد صلعم اور صحابہ کو تلوار کے ذریعہ اسلام منوانا پڑا مگر اب چونکہ علمی زمانہ ہے اس لئے ایک نئی شریعت کی ضرورت تھی۔احمدی جبر کسی کو مسلمان نہیں بنایا گیا اور نہ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی لڑائیوں کی یہ غرض تھی بلکہ جنگ مدافعانہ طور پر تھی۔چنانچہ پہلی آیت جس میں لڑنے کی اجازت دی گئی وہ یہ تھی کہ : إِنَّ اللهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (الحج: 39-40) میں نے مفصل طور پر رپر اس مسئلہ کو بیان کیا اور پھر اس سے دریافت کیا کہ بتاؤ اگر اس وقت کوئی ایسی حکومت ہو جو لوگوں کو جبراً اپنے دین میں داخل کرے اور دوسرے دین میں لوگوں کو داخل ہونے سے بذریعہ تلوار اور قوت رو کے اور تم میں اس کے مقابلہ کی طاقت ہو تو اس وقت آپ اس سے لڑیں گے یا نہیں۔بہائی کیوں نہیں۔اس سے جنگ کرنا ضروری ہوگا۔احمدی پس قرآن مجید کا قانون یہی تھا اور یہ سب زمانوں کیلئے ہے۔اس لئے آپ فرما دیں کہ اسلامی شریعت میں کونسی کمی تھی جس کو بہاء اللہ کی شریعت نے پورا کیا۔بہائی بہاء اللہ کی شریعت کی غرض یہ ہے کہ تا دنیا میں سلام پھیلے اور یہ جنگیں وغیرہ دنیا سے مٹ کر آپس میں اخوت واتحاد قائم ہو اور اس کیلئے حضرت بہاء اللہ فرماتے ہیں کہ آپس میں نرمی اختیار کرنی چاہئے حتی کہ اگر کوئی شخص قتل کر دے تو اسے قتل نہیں کرنا چاہئے اور اگر کوئی تکلیف دے تو غصہ کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔احمدی یہ بات تو انجیل میں بھی موجود ہے۔اگر کوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا بھی اس کی