حیات شمس

by Other Authors

Page 210 of 748

حیات شمس — Page 210

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 194 ہے۔اس کی قبر کے ارد گرد بھی انواع و اقسام کے غالیچے بچھائے گئے ہیں اور اس کی قبر کو خوب مزین کیا گیا ہے۔اگر یہی مال کسی اور عمدہ کام پر غریبوں وغیرہ کی امداد پر لگایا جاتا تو کیا اچھا ہوتا مگر معذور ہیں۔آخر خدا کی قبر اور دوسروں کی قبر میں فرق تو ہونا چاہئے۔وہاں ہی بہاء اللہ کے مکانات ہیں۔اس کا بیٹا علی محمد وہاں مقیم ہے اس سے ملاقات کی۔میں نے اس سے اختلاف کا سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ حب الرياسة ریاست کی محبت نے میرے بھائی کو اس اختلاف پر مجبور کیا چونکہ وقت تھوڑا تھا اس لئے میں نے ان سے اجازت لی اور انہوں نے کہا کہ میں ہوٹل میں جہاں آپ مقیم ہیں زیارت کروں گا۔میں نے کہا۔اَهْلاً وَّ سَهْلاً وَّ مَرْحَبًا۔پھر اتوار کے دن حسب الوعدہ شوقی آفندی کی ملاقات کیلئے گیا۔وزٹنگ کارڈ بھیج دیا مگر جواب آیا کہ آپ بیمار ہیں اس لئے مل نہیں سکتے۔ان کے والد صاحب سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ان کی طرف سے معذوری کا اظہار کیا۔میں نے ان سے دریافت کیا کہ فلسطین اور شام میں بہائیوں کی تعداد کیا ہوگی۔اس نے کہا تین سو کے قریب ہوگی۔(چنانچہ اس کی تصدیق مرزا محمد علی صاحب کے نمائندہ نے بھی کی۔جو مجھے ہوٹل میں ملنے کے لئے آئے۔انہوں نے میرے سوال پر یہ کہا کہ دونوں فریق کے بہائیوں کی تعداد تین سو کے قریب ہے ) میں نے کہا اگر کوئی شخص بعض سوالات کرنا چاہے تو کس سے کر سکتا ہے۔کہنے لگا یہاں تو سوائے شوقی آفندی کے اور کوئی عالم نہیں ہے۔میں نے کہا اسی لئے میں چاہتا تھا کہ ان سے ملاقات کروں مگر آپ فرماتے ہیں کہ وہ بیمار ہے۔بہائیوں سے مکالمہ پھر جب وہاں سے آنے لگا تو انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز بہائیوں کی مجلس ہو ا کرتی ہے آپ اس میں تشریف لائیں۔میں وہاں گیا بعض کاموں کی وجہ سے مجھے دیر ہوگئی۔مجلس ختم ہو چکی تھی۔بعض اشخاص وہاں موجود نہ تھے۔ان کو پہلے سے میرے آنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ایک نے ان میں سے کہا کہ آپ حضرت شوقی آفندی کے پاس بعض باتیں دریافت کرنے کیلئے تشریف لے گئے تھے اس لئے اگر آپ مجھ سے دریافت کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔میں نے کہا بہت اچھا۔احمدی آپ بہاء اللہ کو کیا خیال کرتے ہیں۔:بہائی يظهره اللہ کہ وہ خدا تعالیٰ کے مظہر ہیں۔