حیات شمس

by Other Authors

Page 212 of 748

حیات شمس — Page 212

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس طرف پھیر دو مگر میں کہتا ہوں کہ یہ تعلیم ناقص ہے۔196 میں نے ناقص کا لفظ بولا ہی تھا جو بہائی غصہ سے بھر گیا۔کہنے لگا آپ ادب سے کلام کیجئے۔آپ ناقص کا لفظ کیوں استعمال کرتے ہیں۔میں نے کہا۔دیکھئے لغت کے لحاظ سے یہاں ناقص کے سوا اور کوئی لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کامل کے مقابل میں ناقص ہے۔اس لئے جبکہ میں ایک بات کو کامل نہیں خیال کرتا تو میں اسے ناقص ہی کہوں گا اور تمہارا اس لفظ پر غصہ ہونا میرے کلام کی تصدیق کر رہا ہے کہ یہ قانون ناقص ہی نہیں بلکہ انقص ہے۔یہاں تو میں نے کوئی قتل نہیں کیا اور نہ ہی میں نے آپ کو ایذا دی ہے مگر آپ غصہ سے بھر گئے ہیں۔طبائع بشری میں اختلاف ہے۔ہر ایک طبیعت دوسرے کو معاف نہیں کر سکتی اور نہ ہی ہر جگہ عفو سے اصلاح ہوسکتی ہے۔اسی لئے قرآن مجید فرماتا ہے: وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَا جُرُهُ عَلَى اللهِ إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ۔(الشورى:41) کہ اگر کوئی شخص برائی کا بدلہ دینا چاہے تو اتنا ہی دے سکتا ہے۔جرم سے زیادہ سزا دینی منع ہے۔لیکن اعلیٰ درجہ کا و شخص ہوگا جو ہر وقت مجرم کی اصلاح کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرے۔اگر دیکھے کہ مجرم کی اصلاح عفو سے ہوسکتی ہے تو اسے معاف کر دے اور اگر دیکھے کہ اصلاح عقاب کے بغیر نہیں ہو سکتی تو اسے سزا دینی ضروری ہے۔پس یہ قانون کامل ہے۔بہائی اس طرح تو انجیل بھی کامل تھی کیونکہ مسیح کہتا ہے زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں پر میری باتیں نہ ملیں گی۔احمدی: یہ تو غیب کی خبروں کے متعلق ان کا کلام ہے کہ جو وہ پیشگوئیاں کر رہے ہیں ضروری پوری ہو کر رہیں گی۔احکام کے متعلق خود ان کا انجیل یوحنا میں قول موجود ہے کہ مجھے اور بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر تم ان کے برداشت کی طاقت نہیں رکھتے مگر جب وہ روح الحق آئے گی تو وہ تم سے سب باتیں کہے گی۔آپ کوئی ایسا حکم پیش کریں جو قرآن مجید میں تو ناقص ہو اور بہاء اللہ نے اس سے اعلی بیان کیا ہو۔دیکھئے انجیل میں تو یہ تعلیم تھی کہ کسی کو اپنے بھائی پر بے سبب غصہ نہیں ہونا چاہئے مگر قرآن مجید نے کہا۔وَالْكَاظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ (آل عمران : 135 ) کہ تعریف کے لائق وہ لوگ ہیں جو باوجود غصہ کا سبب پائے جانے کے غصہ کا اظہار نہیں کرتے۔پھر یہیں تک نہیں بلکہ وہ لوگوں کو ان کا قصور معاف کر دیتے ہیں۔پھر معاف ہی نہیں کرتے بلکہ ان پر احسان بھی کرتے ہیں اور اس وقت وہ