حیات شمس

by Other Authors

Page 201 of 748

حیات شمس — Page 201

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 185 دولت برطانیہ کے حکم کے سامنے جھک جائے۔وقوع جرم اور حدوث خیانت سے پہلے یہ حالت تھی اور لوگوں کا یہی خیال ہے کہ اسی سبب سے مجرموں نے اس بد جرم کا ارتکاب کیا اور خدا کے نزدیک گنہگار ہوئے کیونکہ اس نے قتل نفس کو بدون حق کے حرام قرار دیا ہے اور اسلام کی طرف بھی برائی منسوب کی کیونکہ وہ مرشد اور ہادی ہو کر آیا ہے۔وہ تسامح اور حق کی طرف بلانے ولا ہے نہ کہ جنایات اور جرائم کی طرف۔پھر لکھا ہے ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ علماء اور شیوخ اس جرم کو نہایت برا خیال کرتے ہیں۔یہ فعل اور جہلاء کا ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کیلئے کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اسلام ان کے اس فعل سے بلند اور پاک ہیں۔الفضل قادیان 14 فروری 1928ء) علمائے دمشق حضرت مولا نائٹس صاحب اپنے زخمی ہونے اور علمائے دمشق کی بابت اپنے اگلے مکتوب میں تحریر کرتے ہیں: قارئین کرام کو میرے زخمی ہونے کا حادثہ یاد ہوگا کہ وہ مشائخ و ملاؤں کی برانگیخت اور انہی کے خفیہ منصوبوں کا نتیجہ تھا۔جب وہ دلائل کی رو سے مقابلہ کرنے سے عاجز آگئے اور بعض ذی علم اصحاب بھی سلسلہ میں داخل ہو گئے اور اہل علم طبقہ پر بھی علماء کی دینی علوم سے جہالت ظاہر ہونے لگی تو انہوں نے جیسا کہ ہمیشہ سے خداوندی سلسلوں کے دشمنوں کی عادت رہی ہے میرے نکلوانے کی کوشش کی مگر رئیس الحکومت شیخ یا ملا نہ تھا جو ان کی درخواست کی طرف توجہ دیتا۔جب انہوں نے اس طرح نا کامی دیکھی تو پھر میرے قتل کی تجویز کی۔چنانچہ انہوں نے اپنی طرف سے مجھے قتل بھی کر دیا مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور میرے پیارے آقا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور احمدی بھائیوں اور بہنوں کی دعاؤں کی برکت سے وہ اپنے اس مقصد میں ناکام ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطا فرمائی۔اس حادثہ سے لوگوں کی سلسلہ کی طرف اور زیادہ توجہ ہوگی۔شفا پانے کے بعد میں نے ہوٹل میں قیام کیا اور ماہ رمضان میں قرآن مجید کا درس دینا بھی شروع کر دیا جس سے لوگ اور بھی اس طرف متوجہ ہوئے اور مجھے خدا تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی کہ میں اپنے قاتلوں کے سامنے پھر اسی ہمت اور استقلال سے تبلیغ کروں جیسا کہ حادثہ سے پہلے تبلیغ کرتا تھا۔بعض مشائخ نے نہایت تعجب ظاہر کیا اور حیرت سے دریافت کیا کہ کیا وہ اس حادثہ کے بعد بھی یہاں سے نہیں جائے گا۔قونصل نے بھی مجھے