حیات شمس

by Other Authors

Page 200 of 748

حیات شمس — Page 200

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 184 شخصوں کو اس جرم میں پکڑا گیا ہے اور تحقیق کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشخاص بعض علماء کی طرف سے اس کام کے لئے بھیجے گئے تھے۔اس خبر کو بیروت کے اخبارات البلاغ اور المشرق نے بھی نقل کیا ہے۔اخبار الصفا کے دمشقی مراسل نے یہ لکھا ہے کہ یہی بات ارحج معلوم دیتی ہے کہ وہ مشائخ کی طرف سے خصوصاً جویجاتی اور شیخ ہاشم خطیب کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔اخبار الرأى العام نے لکھا ہے: ہم اپنی رائے کو اس بارہ میں محفوظ رکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس وقت تک جو کچھ معلوم ہوا ہے اور لوگوں کی زبانوں پر جاری ہے وہ یہی ہے کہ یہ اشخاص شیخ الخطیب اور شیخ علی الدقر کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔اگر یہ بات صحیح ہو تو انہیں سخت سزا دینی چاہئے۔اخبار المقتبس نے لکھا ہے: گزشتہ ہفتہ کی خبروں میں سے ایک خبر یہ تھی کہ چند اشخاص نے شیخ جلال الدین شمس المبشر الاحمدی الہندی کو جبکہ وہ اپنے منزل میں داخل ہونے لگا تھا چھری سے چند زخم لگائے اور اسے حیات اور موت کے درمیان زخمی چھوڑ کر بھاگ گئے۔یہ وہ خبر تھی جسے ہم نے بھی باقی تمام اخباروں کی طرح ذکر کیا تھا۔بغیر اس کے کہ ہم اس کے متعلق ہم اپنی طرف سے کچھ لکھیں جب تک کہ ان اسباب کا پتہ نہ لگا لیں جن کی وجہ سے مجرمین نے ارتکاب جرم کیا اور یہ کہ آیا اس جرم کو وظیفتہ التبشیر سے کوئی تعلق ہے یا نہیں ہمیں یہ بھی معلوم کرنا چاہئے کہ آیا مجرمین کے پیچھے اس جرم شنیع کے ارتکاب کے لئے کوئی اور بھی ہاتھ ہے یا نہیں۔پھر لکھا ہے اسلام جہلاء کے ایسے برے افعال سے پاک ہے۔وہ ایک سیدھا راستہ ہے جو بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے منع کرتا اور کسی نفس کا بدون حق کے قتل حرام قرار دیتا ہے۔کہتے ہیں کہ اس جرم کے ارتکاب کا باعث ایک پر جوش مباحثہ تھا جو استاذ مبشر اور بعض جہلاء مسلمین کے درمیان ہوا۔اسی وقت بعض نے ان کے دفتر میں ہی مارنے کا ارادہ کیا لیکن ان کے اور ان کے اس بد ارادہ کے پورا ہونے کے درمیان مسلمانوں کا ایک سنجیدہ گروہ حائل ہو گیا اور مجمع بغیر اس کے کہ کسی قسم کی مکدر بات پیدا ہومنتشر ہو گیا لیکن ان کے کینہ اور غصہ سے بھرے ہوئے دل استاذ مبشر پر غیظ وغضب سے بھر گئے اور اس پر گردشوں کا انتظار کرنے لگے۔رستوں کے موڑوں پر اس کو اچانک قتل کرنے کے قصد سے چھپ کر گھاتیں لگانے لگے۔اس کی نسبت قسم قسم کی جھوٹی افواہیں اڑانے لگے۔اُسے استعمار بریطانی کی تائید کی تہمتیں لگانے لگے اور یہ کہنے لگے کہ مذہب احمدی کا بانی یہ کہتا ہے کہ اسلام کی نجات اسی میں ہے کہ وہ