حیات شمس — Page 202
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 186 بلوا کر کہا کہ چونکہ آپ کے دشمن بہت ہو گئے ہیں اس لئے آپ یہاں سے کسی اور مقام پر چلے جائیں۔میں نے جواب دیا کہ میں ایسے وقت میں یہاں سے جانا بزدلی خیال کرتا ہوں میں یہاں ہی رہوں گا اور جو کام میرے سپرد کیا گیا ہے جہاں تک مجھ میں طاقت ہے سرانجام دوں گا۔اس عرصہ میں خاص طور پر لوگوں کا سلسلہ کی طرف رجحان تھا۔چنانچہ میرے شفا پانے کے بعد ایک ماہ میں بارہ تیرہ اشخاص سلسلہ میں داخل ہوئے اور بہت سے لوگ تحقیقات کر رہے تھے۔گذشتہ ہفتہ بھی چار اشخاص سلسلہ میں داخل ہوئے۔جن کے نام حسب ذیل ہیں۔(۱) حسن بن عبد الله الخروری۔(۲) خلیل الخضری جو مشہور تاجر ہیں(۳) حمدی آفندی بن راغب سلطان (۴) آمنہ بنت شیخ عمر زوجہ ابو محمد۔وو میزان الاقوال ایک اور بات جو سلسلہ کی اشاعت میں مد ہوئی وہ مشائخ کی کتاب ” اصح الاقوال‘ کا جواب ” میزان الاقوال تھا۔زخمی ہونے سے ایک دن پہلے میں اس کتاب کا ٹائٹل پیچ چھپنے کیلئے دے کر آیا تھا۔پھر میں ہسپتال میں ہی تھا جو کتاب چھپ کر تیار ہوگئی۔اس کتاب میں مشائخ سے فتنہ دجال و نزول اسح وغیرہ کے متعلق احادیث کی بنا پر میں سوالات ہیں اور ان کے اعتراضات کے جوابات قرآن مجید وحدیث سے۔اس بات کا ثبوت کہ تبلیغ سے روکنا اور قتل کی خفیہ تدبیریں کرنا اور نکلوانے کی کوششیں کرنا یہ انبیاء اور صلحاء کے اعداء کا کام رہا ہے انبیاء یا ان کی جماعت نے ایسا کام کبھی نہیں کیا۔اس میں ان کو یہ بھی تحدی کی کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ ہے۔وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة - [ تذکره، بار چهارم صفحه 80-81] کہ آپ کے اتباع دلائل و براہین کی رو سے دوسروں پر غالب رہیں گے اس لئے میرا ایمان ہے کہ تم میں سے کوئی ملا میرا دلائل کی رو سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ کتاب تقسیم کی گئی۔لوگوں نے قبولیت کی نظر سے دیکھا۔بعض مشائخ کے جواب کی انتظار کرنے لگے مگر کسی ملا کو جواب دینے کی جرات نہ ہوئی۔اب انتخابات کا وقت آگیا تا کہ قانون اساسی بنایا جائے اور حکومت نے اپنے بعض منافع و مطامع سیاسیہ کی خاطر شیخ تاج الدین ابن شیخ بدر الدین کو موقتا رئیس الوزارۃ بنا دیا۔اس کے پاس