حیات شمس — Page 118
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 118 گئے۔علامہ شمس صاحب نے حضور علیہ السلام کی عمر کے متعلق الہامات کے اصل الفاظ پیش کر کے حضور کے الفاظ بلکہ خودمولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب کی تحریرات سے ثابت کر دکھایا کہ الہام الہی کے مطابق حضور نے 75 سال کی عمر میں وفات پائی۔الفضل قادیان 9 اکتوبر 1934 ء صفحہ 7) مقدمہ بہاولپور حضرت مولانا موصوف کی زندگی کا یہ طویل ترین اور اہم ترین مباحثہ ہے جو عدالت عالیہ کے اندر کئی نابغہ روزگار ، منجھے ہوئے علماء اور چوٹی کے محققین کے ساتھ ہوا۔مقدمہ بہاولپور کیلئے حضرت مولا نائٹس کا انتخاب بھی قدر کی نگاہ سے دیکھنے کے قابل ہے۔باوجود یکہ اس وقت سلسلہ احمدیہ میں چوٹی کے علماء موجود تھے تاہم سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی نظر انتخاب آپ ہی پر پڑی۔وایں سعادت بزور بازو نیست اس مقدمہ میں اللہ تعالیٰ کی شان کئی طور پر ظاہر ہوئی۔کٹہرہ میں ہر موقعہ پر حضرت مولانا شمس صاحب نے دلائل قاطعہ وساطعہ اور براہین ملحمہ سے طائفہ مخالفین کا ناطقہ بند کر کے رکھ دیا۔اس مقدمہ کی روئیداد سلسلہ وار کئی اقساط میں اخبار الفضل قادیان 1932 ء تا1934ء میں شائع ہوتی رہی۔مولانا شمس صاحب کے مدافعانہ دلائل، مد مقابل مولوی انور شاہ کشمیری اور دیگر کو لاجواب کر دیتے۔آپ کے عدالتی بیانات ہمیشہ حقائق پر مبنی ہوتے اور فاضل حج کو بار بار آپ کے دلائل کا رخ دوسری جانب موڑ نا پڑ تایا یہ کہنا پڑا تا کہ اسقدر تفصیل کی ضرورت نہیں۔آپ کے بیانات عقلی و نقلی دلائل سے بھر پور ہوتے۔مقدمہ بہاولپور کی روئیداد پہلی بار کتابی صورت میں 1963ء میں زیور طباعت سے آراستہ ہوئی جس کے صفحات 348 ہیں۔اس میں حسب ذیل مضامین بیان ہوئے ہیں: ایمان اور اسلام، وجوہات تکفیر کا ر ، قرآن مجید سے بقاء وحی پر دلائل، بزرگان سلف کے عقائد در بارہ وحی۔خاتم النبین پر مبسوط بحث، اجراء و انقطاع نبوت پر بحث، حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کئے جانے والے مختلف پیراؤں میں اعتراضات کے جوابات، حضرت اقدس علیہ السلام کی تحریرات پر اعتراضات کے مسکت و مدلل جوابات اور کئی دیگر علمی مضامین شامل ہیں۔مقدمہ بہاولپور کی ساری بحث منظم ومرتب اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے معمور ہے۔حضرت مولانا شمس صاحب کی زندگی میں اور بھی کئی مناظرے اور مباحثے ہوئے جن میں سے بعض کا