حیات شمس — Page 117
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس بنگہ میں ایک مناظرہ 117 یہ مناظرہ 28 تا 30 اکتوبر 1933ء بنگہ میں ہوا جس میں جماعت احمدیہ کو نمایاں فتح حاصل ہوئی۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مولانا جلال الدین صاحب شمس ، مولوی علی محمد صاحب اجمیری اور مولوی محمد سلیم صاحب مولوی فاضل مناظر تھے۔فریق مخالف کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب کولو تارڑ وی اور مولوی محمد صاحب عریبک ٹیچر رائے کوٹ نے بحث کی۔اختتام جلسہ پر چار نفوس نے احمدی ہونے کا اعلان کیا۔فریق مخالف نے بھی تین آدمی کھڑے کئے جنہوں نے کمال سادگی سے یہ اعلان کیا کہ ہم پہلے مرزائی تھے اب احمدی ہوتے ہیں۔اس پر بے اختیار چاروں طرف قہقہے بلند ہوئے۔موضع بنگہ میں غیر احمدیوں کے ساتھ یہ پہلا مناظرہ تھا۔(الفضل قادیان 9 نومبر 1933 ء صفحہ 2) نوٹ : او پر جو پہلے مباحثہ کا ذکر ہے وہ پہلا مباحثہ ہی تھا جبکہ پہلا مناظر ہ1932ء میں ہی ہوا۔مناظرہ دھار یوال اس مناظرہ کی بابت مولوی محمد نذیر صاحب مولوی فاضل تحریر کرتے ہیں : 22-21 اپریل 1934ء میں عیسائیوں سے دھار یوال میں پادری میلا رام اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کے مابین چار مناظرے ہوئے۔مرکز قادیان کی طرف سے بہت سے اصحاب بھی مناظرہ سننے کیلئے گئے تھے۔عیسائی مناظر کو شکست فاش نصیب ہوئی۔ہماری کامیابی کا غیر احمدی احباب نے بھی اعتراف کیا اور اتحاد عمل کا ثبوت دیا۔ٹھیکیدارمحمد عبد اللہ احمدی اور منشی محمد الدین صاحب احمدی نے تمام احمدی احباب کے قیام و طعام کا انتظام کیا جس کیلئے وہ شکریہ کے مستحق ہیں۔الفضل قادیان 29 اپریل و 6 مئی 1934 ، صفحہ 1-2) مناظرہ امرتسر اس سے قبل ” مباحثہ امرتسر کا ذکر گزر چکا ہے جو آریوں کے ساتھ ہوا۔یہ مناظرہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کیساتھ ہوا۔مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب نے 30 ستمبر 1934ء کی رات کو ڈھاب کھٹکیاں میں ایک جلسہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر کے موضوع پر تبادلہ خیالات کی دعوت دی جس پر علامہ مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولوی فضل الدین صاحب وکیل کھاریاں تشریف لے