حیات شمس — Page 119
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 119 مختصر ساذکر کتاب ہذا میں کسی نہ کسی طور پر آیا ہے جیسے بلا دعر بیہ میں خدمات والے حصہ اور انگلستان میں خدمات سلسلہ کے باب میں بعض کا ذکر کیا گیا ہے تاہم سب کا ذکر اس کتاب میں شامل اشاعت نہیں ہوسکا۔ایک نوجوان جس نے مناظرہ میں مولویوں کے مونہہ بند کر دیئے تاثرات مکرم ملک نذیر احمد صاحب لندن) میرے والد صاحب ملک غلام حسین مرحوم بتلاتے ہیں کہ : ” میری عمر اس وقت بائیس تئیس سال کی ہوگی جبکہ میں ریلوے میں ملازم تھا۔چنانچہ ملازمت کے سلسلہ میں مختلف شہروں کا سفر کرنا پڑتا تھا اور بعض اوقات کسی دوسرے شہر میں سارا سارا دن یا رات بھی وہیں گزارنی پڑتی۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ کسی ایک شہر میں سارا دن گزارنا تھا تو میں نے سوچا کہ سٹیشن کے گیسٹ ہاؤس میں وقت گزارنے کی بجائے کیوں نہ شہر کی سیر کی جائے۔پس میں شہر گھومنے کیلئے نکل پڑا۔بازار میں ایک ڈھول والا منادی کر رہا تھا کہ فلاں میدان میں مرزائیوں کے ساتھ مناظرہ ہونے والا ہے۔چنانچہ میں نے سوچا کہ چلو اس کو دیکھتے ہیں۔چنانچہ میں وقت کے مطابق وہاں میدان میں پہنچ گیا وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا ہجوم ہے اور ایک پلیٹ فارم پر بڑی بڑی داڑھیوں والے مولوی کھڑے ہیں مگر مجھے جماعت احمدیہ کا کوئی پلیٹ فارم نظر نہ آیا۔تلاش کرنے پر پتہ چلا کہ قریب ہی چھوٹا سا ایک پلیٹ فارم ہے جہاں چند گنتی کے لوگ جمع ہیں۔میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ یہ کیا مقابلہ کریں گے۔پس میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا اور حیرت سے پوچھا کہ آپ لوگوں کا مولوی کون ہے ؟ تو ان میں سے ایک شخص نے ایک نوجوان کی طرف اشارہ کیا۔میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس نوجوان کی تو ابھی پوری طرح داڑھی بھی نہیں آئی یہ کیا مقابلہ کرے گا۔پس اشتیاق بڑھتا گیا اور میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا۔مناظرہ شروع ہوا اور بڑی بڑی داڑھیوں والے مولویوں نے سوال اور تقریریں شروع کر دیں اور جماعت احمدیہ کے اس نوجوان نے فرفرمنہ توڑ جواب دینے شروع کئے تو میں دیکھتا ہی رہ گیا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔سوال و جواب کا یہ سلسلہ تھوڑی دیر جاری رہا اور جب مولویوں نے دیکھا کہ جواب بڑے سخت اور منہ توڑ اور بڑی روانی سے آرہے ہیں تو پھر دوسرا حر بہ یعنی شور مچانا شروع کر دیا۔اب جواب تو سنے ہی نہ جاسکتے تھے خالی سوالوں پر ہی شور ہونے لگا اور جلد ہی شور میں ہجوم کو مشتعل کرنے