حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 74

،۴ لئے نجات کی کوئی راہ باقی نہیں رہے گی۔یہ ایک پہلو ہے جس کا میں نے مختصراً ذکر کیا۔لیکن جو بیماریاں اب وہاں راہ پا رہی ہیں۔جو دن بدن بدامنی کی کیفیت پیدا ہوتی چلی جارہی ہے اس کا حال یہ ہے کہ ہر انسان اپنے گھر میں جنت ڈھونڈنے کی بجائے باہر جنت کی تلاش کرتا ہے۔ایسے گھر بھی الا ماشاء اللہ یقیناً نہیں جن میں سکون ملتا ہے ، جین میں اعلیٰ انسانی قدریں بھی ملتی ہیں مگر اکثر گھروں کی صورت یہ ہو چکی ہے کہ وہ گھر محض رات بسر کرنے کے لئے گھر ہیں ورنہ ان کی لذتیں ان کے سکون گھروں سے باہر پڑے ہیں اور وہ لذتیں اور وہ سکون ایسے ہیں جو حاصل کئے جائیں تو کسی اور کی لذت اور سکون ٹوٹ کر حاصل ہوتے ہیں۔ایسی بیماریاں پھیل چکی ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کی عطاء فرمودہ لذتوں کو ایک جہنم میں تبدیل کر دیا ہے۔یہ غیر اسلامی تہذیب کی وہ صورت حال ہے جو ہرے غور سے دیکھا جائے تو صرف ایک ملک میں نہیں دو ملکوں میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں رونما ہو رہی ہے۔اس میں جب مغرب کی مثال دیتا ہوں تو ہر گز یہ مراد نہیں کہ اہل مشرق ان باتوں سے پاک اور صاف ہیں۔میں اسلام اور اسلام کی مخالف قدروں کا موازنہ کر رہا ہوں۔ہندوستان بھی انہی بدیوں میں مبتلا ہوتا چلا جارہا ہے اور پاکستان بھی انہی یدیوں میں مبتلا ہوتا چلا جا رہا ہے اور مشرق اور مغرب دونوں اس پہلو سے ایک دستے سے آگے بڑھنے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔پس اس صورت حال کو کیسے تبدیل کیا جائے۔کیسے اس کا رخ پلٹا جائے تاکہ دنیا کو سکون نصیب ہو۔یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔احمدی عورت کی اہلیت احمدی عورت واقعتاً اس بات کی اہلیت رکھتی ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ دوستم کی توقعات کو پورا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے کہ اس