حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 75

دنیا میں جنت کے نمونے پیدا کرے۔اپنے گھروں کو وہ جذب ہے، وہ کشش عطا کرے جس کے نتیجہ مں وہ محور بن جائے اور اس کے گھر کے افراد اُس کے گرد گھو میں انہیں یا پر چین نصیب نہ ہو بلکہ گھر میں سکینت ہے۔وہ ایک دور سے پیارا در محبت کے ساتھ ایسی زندگی بسر کریں کہ لذت یا بی کا محض ایک ہی رخ سر پر سوار نہ رہے ہو جنون بن جائے اور جس کے بعد دنیا کا امن اُٹھ جائے بلکہ خدا تعالیٰ نے پیار اور محبت کے جو مختلف لطیف رشتے عطا فرما رکھے ہیں ان رشتوں کے ذریعہ وہ سکینت حاصل کریں جیسے خون کی نالیوں سے ہر طرف سے دل کو خون پہنچتا ہے وہ دل بن جائیں اور ہر طرف سے محبت کا خون ان تک پہنچے اور وہ دل بن جائیں اور جم کے ہر عضو کو ان کی طرف سے سکینت کا خون پہنچے۔یہ وہ اسلامی معاشرہ ہے جس کو بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ایک ہی چھوٹے سے جملے میں فرمایا کہ تمہاری جنت تمھاری ماؤس کے قدموں تلے ہے۔پس جہاں جنت ہو انسان اسی طرف تو بھاگتا ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ جنت کہیں اور ہو اور دوڑ کے رُخ کسی اور سمت میں ہوں۔اس کی مزید عملی تصویر اس طرح دکھائی دیتی ہے کہ جن معاشروں میں اسلام کے خلاف قدریں قائم ہو رہی ہیں ان میں کسی نہ کسی تھوڑے فرق کے ساتھ بالعموم یہ رحجان ہے کہ ماؤں کے ساتھ اولاد کا تعلق اور اسی تعلق سے باپوں کے ساتھ اولاد کا تعلق دن بدن کٹتا چلا جارہا ہے یا دھیما پڑتا چلا جارہا ہے اور نئی نسل یہ مجھتی ہے کہ جیسے یہ پرانی نسل ہم پر بوجھ ہے، ایک مصیبت ہے۔ایک مذاب سر پر پڑا ہے۔وہ ان کے حقوق کے سلسلہ میں کوئی ایسا فرض ادا نہیں کرتے جس کے نتیجہ میں انہیں تکلیف اٹھانی پڑے۔بہت معمولی تکلیف اٹھاکر کبھی کبھی عید بقرعید سے ہم کہتے ہیں وہاں کرسمس کہا جاتا ہے ایسے مواقع پر وہ کبھی ماں باپ کو اپنے ہاں دعوت دے دیتے ہیں یا کبھی ماں باپ کے ہاں چلے جاتے ہیں ورنہ بالعموم بوڑھوں کے لئے اس سوسائٹی میں کوئی جگہ نہیں رہی جو تھوڑی سی جگہ ہے وہ بھی تنگ ہوتی چلی جارہی ہے۔ایسے شریف گھرانے ضرور موجود ہیں جنہیں ماحول