حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 73

پل ہے ہیں اور ظلم و سفاکی نشو و نماپا ہے ہیں۔ایک طرف تہذیبی تقاضے یہ ہیں کہ تمام دنیا کو یہ تہذیب سکھانے کا دعوی کرتے ہیں اور تیسری دنیا کے غریب ممالک پر اس لحاظ سے طعن زنی کرتے ہیں کہ تمھیں ابھی تک انسانیت بھی نہیں آئی تمھیں انسان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی طرف بھی توجہ نہیں ہے۔تم انسانی حقوق ادا کرنے کے راز نہیں جانتے۔ہم تمہیں سکھاتے ہیں کہ Crilisation کیا ہے۔کس طرح تہذیب کے ساتھ رہنا ہوتا ہے اور دوسری طرف جب ان کو قریب سے دیکھا جائے تو ایسے خوفناک رحجانات نہ صرف ان کے اندر پیدا ہوئے ہیں بلکہ روز بروز نشو و نما پاتے چلے جارہے ہیں۔چنانچہ سفاکی کے جو نظارے ان کے ٹیلی ویژن پر کھلم کھلا کھائے جانے لگے ہیں یا ان کے اخبارات میں ان کے تذکرے ملتے ہیں وہ ایسے خوفناک ہیں کہ ان کا بیان بھی ممکن نہیں۔ایک موقعہ پر ایک ٹیلی وین کے پروگرام میں ایک بہت ہی تجربہ کار پولیس کا بڑا افسر پیش ہوا اور اس نے ایک ایسے شہر کو ٹیلی ویژن پر دکھایا جس کا نام اس نے احتیاطا نہیں لیا تا کہ قانونی جکڑ میں نہ آ جائے۔اس نے کہا اس شہر میں ایک لمبے عرصے سے میں اپنے فرائض ادا کرتا چلا آرہا ہوں، غالباً اس نے ۲۵ یا ۳۰ سال بتائے اور کہا کہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اس شہر کے کم از کم ۳ فیصدی گھر (یعنی One third ) ایسے ہیں جن میں باپ اپنی بیٹیوں پر سفاکانہ ظلم کرتے ہیں اور مائیں اپنے بیٹوں پر کرتی ہیں اور بے حیائی اپنے کمال کو پہنچ چکی ہے اور ان کی کوئی شنوائی نہیں۔قوانین ایسے ہیں جو مجرم کی حمایت کرنے والے اور معصوم کے خلاف استعمال ہونے والے اور معصوم کے حفاظت کے جتنے حقوق ہیں ان کو پامال کرنے والے ہیں۔بہر حال یہ بحث تو اس کی قانونی بحث تھی لیکن میں نے اسے اس نقطہ نگاہ سے دیکھا کہ تہذیب کے اس لمبے سفر کے بعد بالآخر جس مقام پر پہنچے ہیں یہ وہی مقام تو ہے جس کا قرآن کریم میں ایک سراب کی صورت میں ذکر فرمایا گیا تھاکہ بال اخرتم وہاں پہنچ گئےجہاں تمھیں خدا کی عائد کردہ نزا کھڑی دکھائی دے گی۔اس سزا میں تم چاروں طرف سے گھیرے جاؤ گے اور تمہارے