حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 53 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 53

۵۳ صرف قرآن اور سنت پر مبنی معاشرہ دُنیا کے سامنے پیش کریں دیکھنے میں بہت بڑی بڑی خرابیاں ہیں مغربی معاشرے میں بھی دکھائی دیتی ہیں اور ائن کا ازالہ بھی ضروری ہے ، ان کا تدارک بھی ضروری ہے لیکن چونکہ اکثر احمدی خواتین سر دست مشرقی معاشرہ سے تعلق رکھنے والی ہیں اس لئے میں ان کو متوجہ کرتا ہوں کہ اگر آپ نے محض تنقید کی نظر سے مغربی معاشرے کو دیکھا اور ان کو اپنے معاشرہ کی طرف بلایا تو وہ بھی جوا ب تنقید کی نظر سے آپ کے معاشرے کو دیکھیں گی اور یہ ق رکھیں گی کہ کہیں کہ یہ معاشرہ ہمیں قبول نہیں ہے۔کیونکہ یہ معاشرہ تقویٰ پر مبنی نہیں اور اس کے نتیجہ میں پھر Racialism (نسلی تعصب) پیدا ہو گا۔اس کے نتیجہ میں جغرافیائی اور قومی تفریقات پیدا ہوں گی اور نفرتیں پیدا ہوں گی جو قوموں کو قوموں سے الگ کریں گی۔اس کا صرف مغرب سے تعلق نہیں مشرق سے بھی تعلق ہے۔میں جب افریقہ کے دورہ پر گیا تو وہاں کئی جگہوں پر مجھ سے بعض افریقین خواتین نے بعض پاکستانی خواتین کی شکایت کی کہ ان کا یہ طرز ندگی ہے اور وہ ہم پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ یہ اسلامی طرز زندگی ہے اور ہم اس کی نمائندہ اور علمبردار ہیں آپ بتائیں کہ کیا یہ اسلامی طرز زندگی ہے اور اگر نہیں تو کیا احمدیت پاکستانیت دنیا پر ٹھوننے کے لئے اور نافذ کرنے کے لئے پیدا کی گئی تھی۔بعض جگہ غلط فہمیاں تھیں۔بعض جگہ ان کی شکایت میں حقیقت تھی میں نے جب ان کے سامنے کھول کر بات بیان کی تو بڑی اچھی طرح سمجھ گئیں اور میں نے ان کے اور پر یہ بات خوب روشن کر دی کہ احمدیت اور پاکستانیت ایک چیز کے دو نام نہیں ہیں۔احمدیت اور ہے۔احمدیت (دین حق۔۔۔ناقل) ہے اور احمدیت کی مرادا مبنی بر قرآن اور مبنی بر گفت ہونی چاہیئے بس وہ ادا جو مبنی بر قرآن ہے اور مبنی بر سنت ہے وہ احمدیت ہے اور جس عورت میں وہ ادا پائی جاتی ہے اس کا حق ہے کہ وہ (دین حق۔۔ناقل) کی نمائندگی میں تمہیں یہ