حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 52
۵۲ اپنے ربھی رشتوں کی حفاظت کرنا اور ان کا خیال رکھنا۔ان دونوں باتوں کو اس طرح باندھ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی عورت یا مرد دونوں میں سے جو بھی ہو بھی رشتوں کا لحاظ نہیں کرتا اور صلہ رحمی کی بجائے قطع رحمی اختیار کرتا ہے تو اس کے لئے پیغام ہے کہ تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔اس نکتہ کو سمجھنا بہت ہی ضروری ہے کیونکہ بے شمار خطوط جو مجھے دعا کے لئے ملتے ہیں ان میں ایسے بھی بہت سے خطوط ہوتے ہیں کہ ہماری دعائیں پتہ نہیں کیوں قبول نہیں ہو ہیں۔دعائیں قبول نہ ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ایک وجہ ہو یہاں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر تم نے اپنے خاندانی تعلقات کو مضبوط بنانے کی بجائے ایسی حرکتیں کیں کہ یہ تعلقات قطع ہو جائیں تو یاد رکھنا کہ تم خدا سے اپنا تعلق منقطع کر لو گی اور جس سے منتیں کر کر کے اپنی مرادیں مانگتی ہو وہ تمہاری مرادیں پوری نہیں کرے گا۔یہ تفسیر میری نہیں حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تفسیر ہے۔آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ گویا اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ خدا کا نام رحمان اسی مادہ سے ہے جس مادہ سے ماں کا وہ عضو رحم " کہلاتا ہے جس میں بچہ پیدا ہوتا ہے، فرمایا، رحم ماں کے Uterus کے لئے بھی نام رکھا گیا اور رحم ہی خدا کے رحمان نام کی بنیاد ہے۔فرمایا اگر تم رھی رشتوں کو کاٹو گے تو خدا کے رحم سے بھی کاٹے جاؤ گے اور ایک کا دوسرے سے بڑا گہرا تعلق ہے پس جو رحمانیت سے کاٹا گیا وہ کہیں کا بھی نہیں رہا اور ایسے معاشرے کا رحمانیت سے کالے جانے کا ایک یہ بھی مفہوم ہے کہ اس معاشرے میں محبت نہیں پل سکتی اور نفرتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔جو تم سے کاٹا گی وہ رحمانیت سے کاٹا گیا۔اس کا ایک مفہوم تو وہی ہے جو میں نے بیان کیا کہ پھر خدا کی طرف سے تمھاری دعاؤں کے باوجود رحم کا سلوک نہیں کیا جائے گا۔دوسرا یہ کہ ایسا معاشرہ رحمت سے عاری ہو جاتا ہے اور اس میں نفرتیں پلنے لگتی ہیں۔