حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 54
۵۴ تعلیم دے کہ اس عادت کو اپنالو یار بہن سہن کی اس ہیم کو اپنالو اور اسکے علاوہ جو باقی باتیں ہی اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ آپ تک پہنچائے اور یہ دعوی کرے کہ گویا و مادین حق۔۔۔ناقل) کی نمائندہ بن کر آپ کو یہ سلیقے سکھانے کے لئے آئی ہے۔انفرادیت میغربی معاشرہ کی سب سے بڑی خرابی مغربی دنیا کی خرابیوں میں سے بہت بڑی خرابی دہی انفرادیت ہے۔معاشرے میں خود غرضی پیدا ہو چکی ہے اور خود غرضی کو مزید تقویت دینے کے لئے دنیا کی لذتیں اور جدید آلات جو یہ لذتیں پیدا کرنے میں محمد بنے ہوئے ہیں یہ ایک بہت ہی بھیانک کردارادا کر رہے ہیں۔دین بدن معاشرہ اس لئے بکھر رہا ہے کہ ہر شخص چاہتا ہے کہ میں جدید ترقیات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے لذت یابی کے ذرائع سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کروں اور اس راہ میں کوئی رشتہ حائل نہیں ہوتا۔کوئی تعلق حائل نہیں ہوتا۔بیٹا جو کماتا ہے وہ اپنے تک محدود رکھتا ہے۔شاذ ہی وہ اس سے اپنی تغریب بہن کو حصہ دے گا یا غریب ماں کو حصہ دے گا یا غریب بھائی پر خرچ کرے گا۔پس اس پہلو سے یہ معاشرہ انفرادیت کا معاشرہ بنتا چلا جاتا ہے۔کیونکہ ہر شخص کی اپنی ضرورت نہیں پوری نہیں ہور ہیں۔ضرورتیں پوری نہ ہونے کا مضمون غربت سے تعلق نہیں رکھتا۔یہ قناعت سے تعلق رکھتا ہے یعنی اکثر صورتوں میں قناعت سے تعلق رکھتا ہے۔مغربی معاشرہ جتنا امیر ہوتا چلا جارہا ہے اتنی ہی زیادہ ان کی طلب بھڑک رہی ہے اور هَلْ مِنْ مَزِنید کی آواز اُٹھ رہی ہے لذت یابی کے جو کچھ بھی سامان ان کو مہیا ہوتے چلے جارہے ہیں ان کی عادت پڑ جاتی ہے۔وہ بنیادی حق بن جاتا ہے۔اس سے آگے مزید کی طلب پیدا ہو جاتی ہے۔یہاں کے ٹیلی ویژن، یہاں کے ریڈیو، یہاں کے دو کر ذرائع ابلاغ اس شکل میں ایک فرضی جنت کو ان کو سامنے رکھتے ہیں جو دُور سے جنت ہی دکھائی دیتی ہے اور ہر انسان اس کی طرف دوڑنے کی کوشش کرتا ہے لیکن عملاً وہ جنت نہیں ہے وہ ہمندر کے پانی کی طرح کی ایک جنت ہے