حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 43
۴۳ کا جو لفظ آپ نے سن رکھا ہے جو سہاری صدیوں کی تہذیب کا ورثہ ہے ویسا کوئی تصویر آپ کو مغرب میں دکھائی نہیں دے گا اور یہ جو ہمارے ہاں شریکے کا تصور پایا جاتا ہے یہ بہت سی معاشرتی خرابیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔اس لئے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جب نصیحت کی جائے تو پہلے تمام صورت حال کا جائزہ لے کر بیماری کا تجزیہ کیا جائے پھر دونوں فریق کو جہاں جہاں کوئی نقص دکھائی دے، اس نقص کی طرف متوجہ کیا جائے اور تقویٰ کے ساتھ اللہ کے نام پر نیک نصیحت کی جائے۔مشرقی معاشرے کی خرابیوں کا تجزیہ جہاں تک مشرقی معاش کی خرابیوں کا تعلق ہے اس میں ہمارے رشتوں کا بظاہر مضبوط ہونا عملاً ان رشتوں میں دُوری پیدا کرنے کا موجب بن رہا ہے۔مغرب میں چونکہ گھر انگ الگ ہو جاتے ہیں اور ایک بڑے خاندان کے اکٹھے لینے کا تصور نہیں ہے یا اگر تھا تو تاریخ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے لیکن ہمارے ہاں اکثر مشرقی مالک میں خاندان زیادہ وسیع ہیں اور ان کے باہمی روابط دیکھتے ہیں مضبوط ہیں اور بعض صورتوں میں ایک ہی گھر میں صرف ہو، بیٹا اور ساس اور داماد وغیرہ یہ سارے اکٹھے نہیں رہتے بلکہ چھا، تایا اور دو کر رشتہ دار بھی رہتے ہیں اور بعض علاقوں میں تو ان کا ایک ہی کچن ہوتا ہے یعنی ایک ہی مطبخ سے ان کا کھانا تیار ہوتا ہے اور بعض بڑے خاندانوں میں ان کی تجارتوں کے باہمی حساب کتاب بھی نہیں کئے جاتے اور نہ صرف یہ کہ غیر احمدی معاشرہ میں بلکہ احمدی معاشرہ میں بھی ایسی خرابیاں دیکھنے میں آئی ہیں کہ باپ فوت ہو گیا یا ماں فوت ہو گئی اور جائیداد بانٹی نہیں گئی بلکہ یہ مجھا گیا کہ ہمارے خاندان کو اکٹھا رکھنے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے حق کا مطالبہ نہ کرے اور کوئی شخص اس بات پر زبان نہ کھولے کہ میری ماں یا میرے باپ کی جائیداد کا مجھے بھی حقہ دو بڑے بھائی یا خاندان میں اگر کوئی اور بڑا ہے تو اس کے پہر معاملات رہے اور خاموشی سے لوگوں کے سینوں میں شکوے پلتے رہے اور دن بدن تکلیف