حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 42

۴۲ پھرتے ہیں لیکن وہ امن جو گھر میں نصیب ہو سکتا ہے وہ دن بدن اُن کے گھروں کو ویران چھوڑتا چلا جارہا ہے جیسے پرندہ گھونسلے کو چھوڑ کر اُڑ جائے اسی طرح امن گھروں کو چھوڑ کر رخصت ہوتا چلا جارہا ہے۔آج کے معاشرہ میں خواہ دنیا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی موشرق سے تعلق رکھتی ہو یا مغرب سے تعلق رکھتی ہو، شمال سے یا جنوب سے ، سب سے اہم ضرورت گھروں کی تعمیر تو ہے۔گھروں کی بربادی کی وجوہات جب ہم گھر کی بربادی کا نقشہ سوچتے ہیں اور خاندانوں کے ٹوٹنے کا تصور باندھتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں بالعموم مغربی معاشرے کا خیال ابھرتا ہے اور مغربی معاشرے کی بعض برائیاں ہیں جن پر نظر پڑتی ہے اور سمجھتے ہیں کہ گھروں کے ٹوٹنے کی بڑی ذمہ داری مغربی تہذیب پر ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو مشرق بھی بہت بڑی حد تک ذمہ دار ہے اور بہت سی ایسی معاشرتی خرابیاں مشرق میں پائی جاتی ہیں جن کا مغرب میں کوئی وجود نہیں اور وہ گھروں کے توڑنے میں بہت ہی زیادہ خطرناک کردار ادا کر رہی ہیں میں نے اس مضمون سے پہلے تقوی کی نظر سے صورت حال کا جائزہ لیا تو مجھے بعض ایسی باتیں دکھائی دیں جن کے نتیجہ میں میں سمجھتا ہوں کہ بعض پہلوؤں سے مشرقی معاشرہ زیادہ خطرناک صورت حال پیدا کر رہا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے بھی گھروں کو توڑا ہے اور دن بدن توڑتی چلی جارہی ہے اور اسکے نتیجہ میں دن بدن معاشرہ زیادہ دکھوں میں مبتلا ہو رہا ہے لیکس ان کے گھر کو توڑنے کا انداز نفرت پر مبنی نہیں بلکہ بے حسی اور عدم توجہ کے نتیجہ میں ہے اور ذاتی خود غرضیوں کے نتیجہ میں ہے۔ذاتی خود غرضیاں تو دنیا میں ہر جگہ اسی قسم کا کردارا دا کیا کرتی ہیں لیکن ہمارے مشرق میں جو تہذیبی خرابیاں پائی جاتی ہیں جو معاشرتی خرابیاں پائی جاتی ہیں وہ محض تعلقات کو توڑتی نہیں جکہ محبت کی بجائے ان میں نفرت کے رشتے قائم کرتی ہیں اور خاندانوں کے درمیان شہریکے