حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 44
م م بیعتی رہی۔یہ احساس بڑھتارہا کہ جس کے ہاتھ میں انتظامات ہیں یا جس کے نام پر جائیداد ہے وہ بہ نسبت دوسروں کے زیادہ استفادہ کر رہا ہے اور اس کے نتیجہ میںپہلی نسل بعض دفع اس بات کو برداشت کر بھی جاتی ہے لیکن آئندہ جو بچے پیدا ہوتے ہیں اور جوان ہوتے ہیں اُن کے دل میں یہ بظاہر محبت کا رشتہ محبت کے رشتے کی بجائے نفرت کے جذبہ میں تبدیل ہو جاتا ہے اور ووفقیت اگر ابتدا میں نیک بھی تھی تو چونکہ غلط اقدام تھا اس لئے وہ نیک نیت اچھا پھل نہیں دے سکی اور اچھا پھل نہیں دے سکتی۔یہ ایک مثال ہے لیکن عملاً می سے سامنے ایسے بہت سے معاملات آتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کی غلط روایات جو۔۔۔۔شریعت کے خلاف ہیں وہ یقیناباد تاریخ پر منتج ہوتی ہیں اور اس سے معاشرہ میں محبت بڑھنے کی بجائے نفرت پھیلتی ہے پس وہی معاشرہ صیح معاشرہ ہے جو آپ کو دنیا میں پیش کرنے کا حق ہے۔جو ( دین حق۔۔۔ناقل) کی تعلیم پر مبنی ہے اور اس معاشرہ کا کوئی رنگ نہیں ہے نہ وہ مشرق کا ہے نہ وہ مغرب کا۔نہ وہ سیاہ ہے نہ سفید - وہ نورانی معاشرہ ہے پس اس حد تک معاشرے کو Universalize ر آفاقی کرنا چاہیے اسکو نام دیا میں پھیلانا چاہیے اور تمام بنی نوع انسان کی قدر مشترک بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے میں حد تک کسی معاشرے کے پہلو اسلام سے روشنی پارہے ہیں اور اس کی بنیادیں اسلام میں پیوستہ ہیں مگر سہارے ہاں یہ غلط تصور پایا جاتا ہے کہ مشرقی معاشرہ گویا اسلامی معاشر ہے اور یہ تصور غلط ہے۔مشرقی معاشرہ کے بعض پہلو اسلامی ہیں اور ان میں تہذیب اور مذہب باہم ایک دوسرے کے ساتھ جذب ہو کر ایک ہی شکل اختیار کر گئے ہیں لیکن کثرت سے ایسے پہلو ہیں جو نہ صرف یہ کہ اسلامی نہیں بلکہ مذہبی اقدار کے معاندا اور مخالف ہیں اور مذہبی اقدار سے مکرانے والے ہیں اور بت پرست تہذیب کا ورثہ ہیں۔اس لئے احمد می خواتین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے رہن سہن اور طرز معاشرت کو دین حق کے مطابق ناقل) بنائیں خواہ وہ مشرق سے تعلق رکھتی ہوں خواہ وہ مغرب سے تعلق رکھتی ہوں۔