حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 24 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 24

۲۴ کہ انسان اپنے محبوب کی راہ چھوڑ کر اس کے مخالف سمت چلنے والی راہوں پر قدم مارے پھر تو قربانیوں کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے، پاکیزہ زندگی کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔معاشرہ کے اختلاف کے سب مسائل بھی حل ہو جاتے ہیں۔سارے مسائل کا ایک حل ہے اور وہ حل یہی ہے کہ خدا کی محبت میں مبتلا ہو جائیں اس کے نتیجہ میں جون میں پیدا ہوں گی و یقینا خدا والی نسلیں نہیں گی لیکن اُس کے آثار ظاہر ہونے چاہئیں اور وہ آثار دوطرح سے ظاہر ہوتے ہیں اول یہ کہ جو انسان خدا کی سمت میں حرکت کرتا ہے اس کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں، وہ غیر کی بجائے اپنی ذات کا شعور حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس کو پھر اس سے کوئی غرض نہیں رہتی کہ میرے ہمسایہ کے گھر خدا ہے یا نہیں۔اس کو یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ میرا گھر اتنا صاف ہے یا نہیں کہ اس میں خدا اتر آئے۔جب آپ کے گھر کوئی معزز مہمان آنے لگتا ہے تو کبھی یہ تو نہیں ہوا کہ آپ گھر چھوڑ کہ دوسے گھروں میں بھاگ جائیں کہ تم صفائیاں شروع کر دو۔جہان آپ کے گھر آنا ہے کوئی اور اپنے ہاں کیوں صفائیاں کرے گا۔جب آپ غیروں کو نصیحت کرتی ہیں تو آپ عملاً یہی بات کر رہی ہوتی ہیں۔آپ یہ تمنا کرتی ہیں کہ خدا آپ کے گھر اترے اور صفائیاں غیروں کے گھروں کی کروائی جارہی ہیں۔یہ سوچ ہی نہیں رہیں کہ مہمان تو آپ کا آنے والا ہے۔پس جب آپ کو یہ خیال پیدا ہوگا کہ کون مہمان آپ کے دل میں اُترنے والا ہے تو اس شعور کے ساتھ ہی آپ کو اتنی برائیاں وہاں دکھائی دینے لگیں گی کہ جتنے داغ صاف کریں گی کوئی نہ کوئی نیا داغ ظاہر ہو جائے گا۔اور انسان جس کو یہ تجربہ ہو اس کو یہ علم ہے کہ جتنی آپ گھر کی صفائی کریں کوئی نہ کوئی ایپ کو نہ کھدرا دکھائی دیتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی صفائی کامل نہیں ہوئی۔اور جب اُس کو صاف کر دیتی ہیں تو بعض دوسری جگہیں جو پہلے صاف دکھائی دیتی تھیں اس کے مقابل پر داغدار دکھائی دینے لگتی ہیں اور یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔