حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 23

۲۳ قرآن اور احادیث کے مطالعہ سے پایا کہ حقیقتاً آئندہ قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرنا عورتوں کا کام ہے۔اور یہ فیصلہ انہیں آج کرنا پڑے گا ورنہ مستقبل لاز گا تاریک ہے گا۔آج احمدی خواتین کو اپنے سینوں کو خدا کی محبت سے روشن کرنا ہوگا ورنہ اُن کے سینے وہ نور ان کے بچوں کو نہیں پلائیں گے جو ماؤں کے دودھ کے ساتھ پلایا جاتا ہے اور ہمیشہ جزو بدن اور جزو رح ساتھ بن جایا کرتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) نے فرمایا۔خدا کی محبت ایک فرضی چیز نہیں ہے۔اُس کے آثار ظاہر ہوا کرتے ہیں۔پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں تو آثار ظاہر ہوتے ہیں۔جب بارش آنے لگے اُس وقت بھی آثار ظاہر ہوا کرتے ہیں، اچانک نہیں آجایا کرتی۔جب موسم تبدیل ہوتے ہیں تو اس وقت بھی آثار ظاہر ہوا کرتے ہیں، وقت سے پہلے آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔سارے مسائل کا واحد حل پس وہ مائیں جو خدا کی سمت میں حرکت کر رہی ہوں اُن کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔جب میں نے اس مضمون پر غور کیا تو یکے بہت سے مسائل حل ہو گئے۔میں آپ کو یہ تاکید کرتا ہوں کہ آپ اپنا خیال رکھیں کہ مغربی تہذیب میں یا دوسری تہذیبوں کی رو میں نہ بہہ جائیں۔یہ کریں اور وہ کریں اور ایسی پابندیاں اختیار کریں، یہ ساری نصیحتیں ہیں کبھی اثر کر جاتی ہیں کبھی لوگ ان سے اور زیادہ برک جاتے ہیں اور پیچھے ہٹ جاتے ہیں لیکن ایک نصیحت ایسی ہے جو حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو نے اس نظم میں بیان فرمائی اور حقیقت میں اسی پر بار با مختلف رنگ میں زور دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر آپ خدا تعالیٰ کی محبت میں مبتلا ہو جائیں تو سارے معاملے حل ہو جاتے ہیں۔پھر کسی اور نصیحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔پھر خدا خود آپ کو سنبھال لے گا وہ خود آپ کے کام بنائے گا کہ کون سی راہ اس طرف جاتی ہے اور کون سی راہ اس سمت سے مخالف چلتی ہے پھر کیسے ممکن ہے