حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 22

۲۲ پیدا ہوتے ہیں آئندہ کی دُنیا مائیں بناتی ہیں ماؤں کے دودھ میں آئندہ دُنیا کے لئے یہ تقدیر لکھی جاتی ہے کہ وہ زہر ملی تو بنے گی با زندگی بخش قوم ثابت ہوگی۔پس آپ پر ایک عظیم ذمہ داری ہے۔وہ احمدی مائیں جو خدا ترس ہوں اور خدا رسیدہ ہوں اُن کی اولاد کبھی ضائع نہیں ہوتی لیکن ایسے باپ میں نے دیکھے ہیں کہ جو بہت خدا ترس اور بزرگ انسان تھے مگر ان کی اولادیں ضائع ہو گئیں کیونکہ ماؤں نے ان کا ساتھ نہ دیا۔اس معاملے میں کہیں نے ماؤں کو ہمیشہ جیتے دیکھا ہے۔جو مائیں گہرے طور پر خدا سے ذاتی تعلق قائم کر چکی ہوں اُن کی اولادیں کبھی ضائع نہیں ہوتیں۔اسی لئے حضرت اقدس محمد رسول اله صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تمہارے باپوں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔فرمایا جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔پس جنت آپ کے تحت اقدام رکھی گئی ہے۔آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آئندہ نسلوں کو آپ نے جنت عطا کرنی ہے یا جہنم میں پھینکنا ہے کیونکہ اگر جنت آپ کے پاؤں کے نیچے ہو اور پھر آپ کی نسیں جنبی بن جائیں تواس کی دوسری زرداری آپ پر ہوگی۔احمدی ماؤں کی ذمہ داری پس جب یہ کہا گیا کہ جنت ماؤں کے پاؤں کے نیچے ہے تو مراد یہ نہیں تھی کہ ہر ماں کے پاؤں کے نیچے جنت ہی جنت ہے۔مراد یہ کہ اگر جنت مل سکتی ہے اگلی نسلوں کو تو ایسی ماؤں سے مل سکتی ہے جو خود جنت نشاں بن چکی ہوں خود جنت اُن کے آثار میں ظاہر ہو چکی ہو۔ایسی ماؤں کی اولاد لازما جنتی بنتی ہے۔پس میں نے مردوں کو اس مضمون پر مخاطب کرنے کی بجائے یہ فیصلہ کیا کہ آج خواتین کو اس موضوع پر مخاطب کروں کیونکہ میں روشنی تو حضرت اقدس محمد مصطفے صلی الہ علیہ وعلی ابر رستم سے پاتا ہوں۔اپنی عقل سے کلام نہیں کرتا جو قرآن سکھاتا ہے وہ کہتا ہوں، جو حضرت محمد صلے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں وہ میں آپ کے سامنے اپنے رنگ میں پیش کرتا ہوں۔پس میں نے اس راز کو