حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 17

K دیکھوں وہاں اُسے حسن میں تبدیل کرنے کی کوشش کروں۔یہ مرکزی نقطہ ہے۔دوسرا حصہ یہ ہے کہ خدا تعالی سے ایسا تعلق ہو کہ اللہ تعالی اس پروگرام میں آپ کا مددگار بن جائے کیونکہ اس کے بغیر گوشش کے باوجود آپ دنیا میں کوئی ایسی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے جو دلوں کو جوڑنے والی ہو۔جب تک خدا تعالیٰ کا خاص فضل اور تصرف شامل حال نہ ہو دلوں کو جوڑا اسی نہیں جا سکتا۔لیے ذاتی اصلاح کی اہمیت جہاں تک پہلے حصے کا تعلق ہے کہ بدی کو دیکھو تو حسن میں تبدیل کرنے کی کوشش کردو، یہ دیکھنے اور سنتے ہیں تو بہت خوبصورت پیغام دکھائی دیتا ہے۔اور انسان سمجھتا ہے کہ سارے مسئلے حل ہو گئے آج کے بعد سے میں بدی کو حسن میں تبدیل کرنے لگوں گی یعنی خواتین سوچیں تو اس طرح سوچیں گی کہ سارا مسئلہ حل ہو گیا، دنیا فتح ہوگئی۔لیکن دنیا توتب فتح ہوگی جب پہلے اپنے آپ کو فتح کریں گی۔یہ مضمون ذات سے شروع ہوتا ہے اگر انسان اپنی بدیوں سے آنکھیں بند رکھتا ہے اور اپنی بدلیوں سے قافل رہتا ہے اور بعض دفعہ بالا رادہ اور بعض دفعہ بغیر ارادہ کے اپنی کمزوریوں سے آنکھیں بند کرتا ہے اور انہیں نہیں دیکھنا چاہتا۔اس لئے نہیں دیکھنا چاہتا کہ وہ اُن بدیوں کے احساس کے ساتھ اپنی زندگی کو تلخی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔وہ ایک ملمع کاری کا عادی بن چکا ہوتا ہے۔وہ اس بات کا عادی بن چکا ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے ایک خوبصورت حسین، دلکش وجود کے طور پر پیش کرے جو دوسروں سے بہتر ہے۔اگر وہ اپنی بدیاں خود تلاش کرے اور دوسروں کو پتہ لگ جائے کہ میں ہوں کون اور کتنے پانی میں ہوں تو اس کی لذت یا بی کا سارا پروگرام منقطع ہو جاتا ہے۔وہ کبھی بھی دوسروں کے مقابل پر اپنی حمد کے خود گیت گانے کا اہل نہیں رہتا۔بہادر شاہ ظفر کا ایک شعر میں نے بارہا سنایا ہے۔یہ شعر بہت ہی پر لطف اور گہرے