حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 18
منے رکھتا ہے۔اسے میں بار بار سناؤں تو تب بھی نہیں تھکتا۔وہ کہتا ہے ہے نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اورں کے عیب و ہنر پڑی اپنی برائیوں پر ہو نظر تو نگاہ میں کوئی بڑا نہ رہا یعنی ایسا دور بھی ہماری زندگی میں گزرا ہے کہ ہمیں اپنے حال کی خبر نہیں تھی تو ہماری تمام تر توجہ لوگوں کی بدیاں معلوم کرنے کی طرف تھی ہم ڈھونڈتے رہتے تھے کہ فلاں میں کتنی برائیاں ہیں، فلاں میں کتنی بڑائیاں ہیں، ایک بیرونی نظر تھی جو روشن سے روشن تر ہوتی جارہی تھی اور ایک اندرونی نظر تھی جو دن بدن اندھی ہوتی چلی جارہی تھی اور اپنے حال سے ہم بالکل فاضل ہو گئے تھے یہاں تک کہ ایک دن ہم جاگ اُٹھے ہیں ہوش آگیا اور ہم نے اپنی برائیوں کی تلاش شروع کی اور اس تلاش کے دوران ہم نے یہ دریافت کیا کہ ہمارے سوا کہیں بریاں موجود نہیں۔غیروں کی بدیاں تلاش کرنے کا ہوش ہی باقی نہ رہا۔ذاتی اصلاح کے بغیر دنیا کی اصلاح ممکن نہیں پس انسان کی دو دنیائیں ہیں۔ایک باہر کی دنیا ہے اور دوسری اندرونی دنیا ہے باہر کی دنیا کو روشن کرنے کی تمنا رکھنے والے لوگ بسا اوقات اشاعت حق کے فرض سے غافل رہتے ہیں کیونکہ جب تک ان کے اندر کی دنیا روشن نہ ہو وہ باہر تو نہیں پھیلا سکتے جیتی چاہیں آپ فرضی باتیں کرلیں جتنی چاہیں آپ تقریریں کرلیں، لوگوں کو بتائیں کہ دین حق کے کیا محامد اور محاسن ہیں، لوگوں کو یہ بتائیں کہ یہ مذہب دنیا میں سب سے زیادہ حسین منسب ہے جب تک آپ کی ذات میں اُس مذہب کی روشنی لوگوں کو دکھائی نٹ سے گی کبھی دُنیا آپ کی باتوں کو قبول نہیں کرے گی۔حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) فرماتے ہیں بسے دین دیکھے کس طرح کسی مہ رخ پر آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل