حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 16

14 ہے کہ اگر کسی کی ناک پر پھوڑا ہو تو انسان چھوڑے کا علاج کرنے کی بجائے ناک کو ہی کاٹ دے صیح طریق یہ ہے کہ پھوڑے کے زخم کو بھرنے کی کوشش کی جائے۔اس کو کھتے ہیں نقص کو حُسن میں بدلنے کی کوشش۔پس قرآن کریم نے ہمارے سامنے یہ پر دوگرام رکھا ہے کہ جب تم بدی کو دیکھو تو بدی کی دشمنی تمہارے پیش نظر یہ رہے۔بدی کو حُسن میں تبدیل کرنا تمھارا مقصود بن جائے اگر تم ایسا کروگے تو فرمایا فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمُ۔تم اچانک یہ عجیب ماجرا دیکھو گے کہ وہ جو تمہاری جان کے دشمن تھے وہ تم پر جان شار کرنے والے دوست بن جائیں گے۔یہ وہ پروگرام تھا جو حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ لہ علیہ وسلم کےدل پر جاری فرمایا گیا۔اور آپ کے اعمال میں ڈھلا، چنانچہ آکے ذریعہ وہ جماعت پیدا ہوئی جس نے آپ سے یہ رنگ سیکھے اور اس کے نتیجہ میں ایک عظیم روحانی انقلاب برپا ہوا۔دلوں کو اکٹھا کرنے والا لائحہ عمل پس دلوں کو اکٹھا کرنا بنیادی چیز ہے اس کے بغیر نہ افرد اکٹھے ہوسکتے ہیں نہ ق میں اکٹھی ہو سکتی ہیں۔اور دلوں کو اکٹھا کرنے کا کام خدا تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔چنانچہ اگرچہ یہ پروگرام مسمانوں کو دیا گی لیکن آنحضرت صلی الہ علیہ علی کہ موت کو مخاطب کرکے فرمایاگیا کہ تیرا بھی دلوں پر اختیار نہیں ہے۔اگر اللہ نہ چاہتا اور اللہ دلوں پر تصرف نہ فرماتا تو یہ قوم جو بکھری ہوئی اور بٹی ہوئی تھی نہ کبھی ایک ہاتھ پر اکٹھی نہ ہوتی۔اس کے بغیر ان کے دل کبھی مل نہیں سکتے تھے۔دو کو ملانے کا کام در حیقوں سے تعلق رکھتا ہے ایک اپنے نظریے اور اپنے لائحہ عمل میں ایسی پاک تبدیلی سے کہ نفرتیں محرکات میں شامل نہ ہوں نہ اقام کو آپ کی پلاننگ میں آپ کے لائحہ عمل میں کوئی دخل نہ ہو ایک ہی مقصود ہو کہ جہاں بدی