ہستی باری تعالیٰ — Page 61
۶۱ اپنی عزت اپنی آبرو اپنے ملک کے لئے جان دینا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔مگر اس فعل سے جان دینے والے کو کیا نفع ہو سکتا ہے؟ جب اس نے جان دیدی تو اسے کیا فائدہ؟ مگر کیا با وجود اس حقیقت کے ایسے مواقع پر جہاں موت یقینی ہوتی ہے لوگ ملک و وطن کے لئے جان نہیں دیتے؟ حالانکہ وہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ ہمارے اس فعل سے ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچے گا۔غرض ہر ملک ہر قوم میں یہ اور اسی قسم کی باتوں کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔مگر ان کے ایسے فائدے نہیں ہیں جو کرنے والے کی ذات کو پہنچ سکیں۔اس لئے معلوم ہوا کہ یہ فطرتی نیکیاں ہیں اور نیکی کی طرف میلان خدا نے ہی فطرت میں رکھا ہے۔ساتویں دلیل۔دلیل شہادت ساتویں دلیل اس بات کی کہ خدا ہے دلیل شہادت ہے اور دنیا میں سارے فی شہادت پر ہی ہوتے ہیں۔شائد نانوے فیصدی فیصلے اس کے ذریعہ ہوتے ہوں گے نہ صرف مقدمات میں بلکہ تمام علوم میں۔دنیا کا ہر شخص جس قدر باتیں جانتا ہے اور جس قدر باتوں کو وہ صحیح مانتا ہے ان کے متعلق دریافت کر کے دیکھ لو عالم سے عالم آدمی بھی ان میں سے ننانوے فیصدی کو صرف شہادت کی بناء پر تسلیم کرتا ہے نہ کہ اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر اور مشاہدہ پر۔تمام علوم جو یقینی سمجھے جاتے ہیں ان کا بھی یہی حال ہے علم طب ہو کہ علم ہیئت ، علم کیمیا ہو کہ علم انجینئر نگ تمام علوم کا بیشتر حصہ شہادت پر تسلیم کیا جاتا ہے۔بعض لوگوں نے تجارب کئے ہوتے ہیں دوسرے ان کی تحقیق پر اپنے علم کی بنیاد رکھ دیتے ہیں۔خود تجربہ کر کے نہیں دیکھتے۔پس جب دُنیا میں ہر بات اور ہر علم کا فیصلہ