ہستی باری تعالیٰ — Page 60
۶۰ اور اپنا گھر بار رکھتے ہیں اور پھر یہ بھی غلط ہے کہ ماں باپ آئندہ بچوں کی پرورش کرنا چھوڑ دیں۔وہ کبھی نہیں چھوڑ سکتے۔کسی کو یہ کہ کر تو دیکھو کہ میاں تم بوڑھے ہو بچہ کے جوان ہونے تک مرجاؤ گے۔پھر اس کی پرورش کرنے سے تمہیں کیا فائدہ؟ اسے چھوڑ دو۔یہ کہنے پر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا کہتا ہے۔غرض ماں باپ کی عزت وتوقیر کرنا ایسی نیکی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں نظر آتا۔مگر اس کے نیکی ہونے کا کوئی انکار نہیں کرتا۔اسی طرح ساری قوموں میں مردوں کا احترام ضروری سمجھا جاتا ہے مگر اس کا کیا فائدہ ہے ؟ اور اس سے کیا نفع ہو سکتا ہے؟ اگر مردہ کو سنتے کھا جائیں یا اسے ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے جا کر پھینک آئیں تو کیا ہو؟ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح پھینکنے سے سڑ کر بد بو پیدا ہو جائے گی۔یہ ٹھیک ہے اور اس لئے دبانا ضروری ہے۔مگر ہم کہتے ہیں اسے دبانے کے لئے بہت سے آدمی جمع ہو کر کیوں لے جاتے ہیں؟ رسی اس کے پاؤں میں باندھو اور گھسیٹ کر لے جاؤ۔ایسا کیوں نہیں کیا جا تا اور مردے کو با احترام دفن کرنے میں کونسا فائدہ ہے؟ بظاہر اس میں کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ فطرت انسانی اس فعل کو پسند کرتی ہے اور مردے کی بے حرمتی اس پر شاق گزرتی ہے۔غرض بہت سی نیکیاں ملتی ہیں جنہیں سب نیکیاں سمجھتے ہیں اور ان کو عمل میں لاتے ہیں حتی کہ دہریے بھی ان پر عمل کرتے ہیں لیکن ان میں بظاہر کوئی مادی فائدہ نہیں ہوتا صرف احساسات کا سوال ہوتا ہے۔وطن کی خاطر لڑائی میں مرنا بھی ایسے ہی اخلاق میں سے ہے۔سب دُنیا کے نزدیک یہ ایک قابل عزت بات سمجھی جاتی ہے۔مگر ہم کہتے ہیں کیوں لوگ اپنی عزت و آبرو کے لئے مرنا اچھا سمجھتے ہیں؟ اور کیا کوئی ملک ہے جس میں