ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 62

۶۲ شہادت پر ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہستی باری کے معاملہ میں یہ دلیل باطل سمجھی جائے۔ہم مانتے ہیں کہ شہادت فی الواقع شہادت ہونی چاہئے یونہی سنی سنائی بات نہیں ہونی چاہئے۔لیکن اگر شہادت کے اصول کے مطابق کوئی شہادت مل جائے تو پھر اسے ماننا پڑے گا۔دلیل ہمیشہ شہادت ہوتی ہے نہ کہ عدم شہادت۔اگر ایک بڑی جماعت سچے اور راست باز لوگوں کی ایک امر کے متعلق شہادت دے کہ انہوں نے اسے دیکھا یا موجود پایا ہے تو جو لوگ اپنی لاعلمی ظاہر کریں ان کا قول ان گواہوں کے مقابلہ پر ہرگز سنا نہیں جائے گا کیونکہ لاعلمی شہادت نہیں ہوتی اور ان شاہدوں کی شہادت کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔خدا کی ہستی کی شہادت دینے والوں کی اعلیٰ زندگی اب ہم اس معیار کے مطابق ہستی باری کے سوال پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے موجود ہونے کی شہادت ہزاروں لاکھوں لوگ دیتے ہیں اور وہ لوگ بھی ایسے ہیں کہ ان سے بہتر چال چلن والا کوئی شخص نظر نہیں آتا۔قرآن کریم اس دلیل شہادت کو ان الفاظ میں پیش کرتا ہے۔فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (یونس : ۱۷) یعنی اے رسول تو اپنے مخالفوں سے کہہ دے کہ میں نے تمہارے اندر عمر بسر کی ہے۔پھر تم عقل نہیں کرتے اور میرے دعوی کو جھوٹا کہتے ہو۔کیا اس لمبی عمر میں جو میں نے تم میں بسر کی ہے تم نے میری صداقت مشاہدہ نہیں کی ؟ اگر تم نے یہ دیکھا ہے کہ میں کسی حالت میں بھی جھوٹ نہیں بولتا تو اب یہ بات جو میں کہتا ہوں کہ مجھے خدا نے مبعوث کیا ہے تا کہ میں اس کی طرف تمہیں بلاؤں اس میں تم