ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 47

۴۷ ہیں اور ان کا تعلق یا مادہ سے ہے یا دماغ سے۔پس ان کی بحث خدا تعالیٰ کے سوال میں آہی نہیں سکتی۔اور یہ جو سوال ہے کہ خدا محمد ود ہے یا غیر محدود۔یہ لغو سوال ہے کیونکہ اگر یہ مانیں کہ دنیا آپ ہی آپ ہے تو یہ سوال دنیا پر بھی پڑے گا کہ وہ محدود ہے کہ غیر محدود اور دونوں ممکن صورتوں میں سے کسی ایک کو ماننا مشکل ہوگا اور اس پر بہت سے اعتراض پڑیں گے۔پس اگر دنیا کے آپ ہی آپ ہونے کی صورت میں بھی بلکہ قطع نظر اس کی ابتداء کے سوال کے اس کی موجودہ صورت میں بھی اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ وہ محدود ہے کہ غیر محدود۔جو دونوں صورتیں ناممکن ہیں تو پھر یہی سوال اگر خدا تعالیٰ کو مان کر پڑے تو اس میں کیا حرج ہے۔ہم کہیں گے کہ دُنیا کی پیدائش کی کوئی صورت بھی فرض کریں یہ اعتراض قائم رہتا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ یہ اعتراض نہیں ہے بلکہ ایسا سوال ہے کہ جسے انسانی دماغ سمجھ ہی نہیں سکتا۔یا یہ کہ وہ نقطہ نگاہ ابھی دریافت نہیں ہوا جس کی مدد سے اس سوال کو حل کیا جا سکے۔اور ان دونوں صورتوں میں اس دُنیا کا خالق کسی وجود کو ماننا خلاف عقل نہیں کہلا سکتا۔اب میں چوتھے سوال کو لیتا ہوں کہ اگر اس دنیا کو خدا نے پیدا کیا ہے تو پھر خدا کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال کہ خدا کو پیدا کرنے والا بھی کوئی ہونا چاہئے مادی تجربات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔حالانکہ جو چیز غیر مادی ہو اس کے متعلق ہم مادی قوانین کو جاری نہیں کر سکتے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض صورتوں میں ایک مادی چیز کا قیاس دوسری مادی چیز پر بھی نہیں کیا جا سکتا۔پس مادی چیز کا غیر مادی پر قیاس تو بالکل قیاس مع الفارق ہے۔مثلاً پانی ہے اسے اگر گول برتن میں ڈالا جائے تو گول ہو جاتا ہے اور اگر چیٹے برتن میں ڈالا جائے تو چپٹا۔اس پر