ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 46

سوم طرف تو یہی معترضین کہتے ہیں کہ خدا کا خیال لمبے ارتقاء کے بعد پیدا ہوا ہے۔پہلے تو انسانوں نے بعض چیزوں سے ڈر کر ان کے آگے ہاتھ جوڑنے شروع کئے تھے۔آہستہ آہستہ خدا اور عبادت کا مسئلہ بن گیا اور دوسری طرف اس خیال کی ایک خالص فلسفیانہ وجہ بتائی جاتی ہے کہ اس کا خیال دنیا کی پیدائش کے سوال کے حل نہ ہونے کے سبب سے پیدا ہوا۔حالانکہ دونوں خیال متضاد ہیں۔اب میں معترضین کے مقرر کردہ اصول کو لیتا ہوں اور تسلیم کرتا ہوں کہ پہلی اور دوسری توجیہہ پر جو اعتراض کئے گئے ہیں ایک حد تک درست ہیں لیکن تیسری توجیہہ کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے وہ محض ایک دھوکا ہے۔کیونکہ جب کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کسی کی پیدا کردہ ہے تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ ایک مکان کی طرح بنائی گئی بلکہ اس سے مراد یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک مادہ پیدا کیا اور اس میں ایک قانون کو جاری کیا تا کہ اس کے مطابق وہ ترقی کرے۔پس ارتقاء ہرگز دُنیا کی پیدائش کے خیال کے مخالف نہیں بلکہ صانع کی نادر صنعت گری پر دلالت کرتا ہے اور ہر ٹکڑہ اس ارتقاء کا اپنے خالق پر دلالت کرتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی اور کو خالق ماننے کی صورت میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ اس نے مادہ کہاں سے لیا؟ اس کا جواب میں آگے چل کر دوں گا۔فی الحال اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر خدا کو نہ مانا جائے تو بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ مادہ کہاں سے آیا۔پس جب یہ سوال دنیا کوخود بخود مان کر بھی باقی رہتا ہے تو پھر یہ خدا کے وجود کے لئے بطور شبہ کے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔رہا یہ سوال کہ فضاء کو کس نے پیدا کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وہمی وجود ہے جو ہمارے دماغ سے تعلق رکھتا ہے۔خدا سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔فضاء اور جہات نسبتی امور