ہستی باری تعالیٰ — Page 48
قیاس کر کے اگر کوئی کہے کہ لوہا کیوں اس طرح نہیں ہوتا تو ہم اسے یہی کہیں گے کہ یہ قانون پانی کے لئے ہے لوہے کے لئے نہیں۔یا اگر کوئی کہے کہ پانی اپنی ایک ہی شکل کیوں نہیں قائم رکھتا جس طرح لوہا رکھتا ہے تو اس سے بھی یہی کہا جائے گا کہ یہ بات لو ہے سے تعلق رکھتی ہے پانی سے نہیں۔پس جب ایک مادی چیز کا قیاس دوسری مادی چیز پر بھی نہیں کیا جا سکتا۔تو ایک مادی چیز کو غیر مادی شئے پر کس طرح قیاس کر سکتے ہیں۔چونکہ دنیا میں ہمیں کوئی چیز ایسی نظر نہیں آتی جو آپ ہی آپ ہو۔اس لئے ہم سمجھ لیتے ہیں کہ کوئی چیز آپ ہی آپ نہیں ہو سکتی لیکن جو اشیاء کہ مادی نہیں ہیں ان کے متعلق ہم کوئی ایسا قانون مادی اشیاء کی بناء پر نہیں بنا سکتے اور نہ ان کی کیفیت اور حقیقت ہمارے ذہن میں آسکتی ہے۔اگر ہم یہ مانیں کہ دُنیا آپ ہی آپ بن گئی ہے تو اس پر یہ سوال بے شک پڑیگا کیونکہ مادہ کے متعلق ہمیں تجربہ سے معلوم ہو چکا ہے کہ اس کے تغیرات یا اس کی پیدائش آپ ہی آپ نہیں ہوتے بلکہ سبب اور مسبب کا قانون اس پر حاوی ہے۔پس ہم یہ ہرگز نہیں مان سکتے کہ مادہ آپ ہی آپ ہو گیا یا یہ کہ مادہ سے آپ ہی دنیا بن گئی۔آخری اعتراض کہ اگر کوئی اس دنیا کا پیدا کرنے والا ہے تو وہ معنی ہونا چاہئے اور اگر غنی ہے تو وہ علت کیونکر بنا۔یہ سوال جس طرح خدا کے وجود پر پڑتا ہے اسی طرح دنیا پر۔کیونکہ اگر وہ محتاج ہے تو آپ ہی آپ کیونکر ہوئی ہے اور اگر فنی ہے تو اس میں تغیر کیونکر ہوا اور وہ اس شکل میں کس طرح بدل گئی اور اگر اس شکل کے باوجود دنیا کو آپ ہی آپ مانا جا سکتا ہے تو کیوں اس کا خالق ایک اور وجود کو نہیں مانا جاسکتا۔