ہستی باری تعالیٰ — Page 41
ام بننے کے زمانہ پر چھ ہزار سال گزرنے پر اب کیوں بندر انسان نہیں بنے ؟ اس کے مقابلہ میں ہم کہتے ہیں کہ انسان بننے کے بعد اس کی عقلی اور ذہنی ترقی ہوتی جارہی ہے اور جس قسم کا ارتقاء ہم تسلیم کرتے ہیں اس کے مطابق کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر کامل وجود پیدا ہو جانے کی وجہ سے ترقی رُک گئی ہے۔تو ہم کہتے ہیں اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ سب حیوانات بدل کر کامل انسان بن گئے ہیں تو یہ غلط ہے۔ہر قسم کے جانور اب تک موجود ہیں اس لئے وہ تغیر جاری رہنا چاہئے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ اب چونکہ بہتر مخلوق پیدا ہوگئی ہے اس لئے تغیر کی ضرورت نہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ضرورت نہیں کے الفاظ ہی بتا رہے ہیں کہ کسی بالا رادہ ہستی نے ایک مقصد کے لئے دنیا کو پیدا کیا تھا جب وہ مقصد پورا ہو گیا تو ایسے تغیرات جو اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری تھے انہیں ترک کر دیا گیا ہے اور یہی دلیل ہستی باری کو ثابت کرتی ہے۔چوتھی دلیل سبب اور مسبب کی چوتھی دلیل کے متعلق سبب اور مسبب کی ہے جو عام طور پر استعمال کی جاتی ہے اور جسے ایک ان پڑھ آدمی بھی سمجھ سکتا ہے اس لئے بہت کارآمد ہے۔کہتے ہیں کسی فلاسفر کو کوئی آن پڑھ زمیندارمل گیا وہ بدوی تھا فلاسفر نے اس سے پوچھا کہ کیا تم خدا کو مانتے ہو؟ اس نے کہا ہاں مانتا ہوں۔فلاسفر نے کہا خدا کے ہونے کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے؟ اس نے کہا الْبَعْرَةُ تَدُلُّ عَلَى الْبَعِيرِ وَأَثَارُ الْأَقْدَامِ عَلَى السَّفِيرِ وَالسَّمَاءُ ذَاتُ الْبُرُوجِ وَالْأَرْضُ ذَاتُ الْفِجَاجِ كَيْفَ لَا تَدُلُّ عَلَى اللَّطِيفِ الْخَبِيْرِ جب جنگل میں مینگنی کو دیکھ کر اونٹ کا پتہ لگایا جاتا ہے اور پاؤں کے نشانات سے چلنے والے کا تو یہ ستاروں والا