ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 42

آسمان اور یہ زمین جس میں راستے بنے ہوئے ہیں ان کو دیکھ کر کیوں نہ سمجھوں کہ خدا ہے؟ یہ دلیل جو ایک بدوی نے دی پہلے لوگوں کی عقل یہاں تک ہی پہنچی ہے۔دنیا ایک بڑا مقام ہے جس کو پیدا کرنے والا کوئی ہونا چاہئے۔یہ خیال ان کے لئے کافی تھا۔یہ دلیل گو ہے تو صحیح مگر اس پر اعتراض بھی بہت سے پڑتے ہیں۔لیکن چونکہ عام دلیل ہے اور حقیقتا صحیح ہے اس لئے قرآن کریم نے بھی اس دلیل کو لیا ہے۔جیسا کہ آتا ہے آفي الله شَتْ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (ابراہیم :11 ) اے لوگو! کیا تمہیں اس خدا میں شک ہے جس نے آسمانوں اور اس زمین کو پیدا کیا ہے؟ گو یہ دلیل عام ہے لیکن تعجب ہے کہ سب سے زیادہ اس پر لوگ اعتراض جماتے ہیں اور بالکل ممکن ہے کہ اعتراضوں کی کثرت کا موجب اس کا عام ہونا ہی ہو۔پیدائش دنیا کے متعلق لوگوں کے خیال جن لوگوں نے حقیقت عالم پر غور کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ دنیا کو دیکھ کر خدا کی ہستی کا نتیجہ نکالنا درست نہیں۔پہلے سب قسم کے خیالات کو لینا چاہئے جو دُنیا کے وجود میں آنے کے متعلق پیدا ہو سکتے ہیں پھر ان کا موازنہ کر کے نتیجہ نکالنا چاہئے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں دُنیا کی ابتداء کے متعلق تین خیال پیدا ہو سکتے ہیں۔۔یہ کہ دنیا آپ ہی آپ ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔۔یہ کہ دُنیا نے اپنے آپ کو آپ پیدا کیا۔۳۔یہ کہ کسی نے دُنیا کو پیدا کیا۔پہلے خیال کے یہ معنی ہوئے کہ دُنیا کو پیدا کرنے والا کوئی نہیں۔ہمیشہ سے آپ ہی